سبق آموز واقعات
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
جھکنے میں سر بلندی فرد کا جھکنا قوم کا سر بلند ہونا ہے لارڈ سالسبری (1903-1830) ملکہ وکٹوریہ کے زمانہ حکومت میں برطانیہ کے وزیر اعظم تھے ۔ اس زمانہ میں کار کا رواج نہ تھا۔ وزیر اعظم سالسبری اپنی سائیکل پر سوار ہو کر جا رہے تھے ۔ ایک مقام پر وہ سڑک کے غلط رخ سے گزرنے لگے۔ سڑک پر متعین کانسٹیبل نے انھیں روکا۔ وزیر اعظم نے کانسٹیبل کو بتایا کہ میں وزیر اعظم ہوں، اور چوں کہ مجھے عجلت تھی اس لیے مجھ سے ٹریفک کے ضابطہ کی خلاف ورزی ہو گئی۔ کانسٹیبل نے جواب دیا کہ میں اپنی ڈیوٹی کو بجا لانے والا کانسٹیبل ہوں۔ میرا فرض صرف یہ ہے کہ ٹریفک کی خلاف ورزی نہ ہونے دوں۔ چوں کہ آپ ایک سفید ریش بزرگ ہیں، اس لیے میں صرف اتنی رعایت کر سکتا ہوں کہ آپ کا چالان نہ کروں۔ لیکن اتنا آپ کو بہر حال کرنا پڑے گا کہ آپ واپس جائیں اور جہاں سے سڑک شروع ہوتی ہے، وہاں سے سیدھی سمت میں آئیں ۔ وزیر اعظم نے بے چون و چرا ٹریفک کانسٹیبل کا حکم مان لیا۔ نیز اس واقعہ کا ذکر ملکہ وکٹوریہ کے پرائیویٹ سکریٹری سے خود کر کے اس فرض شناس کانسٹیبل کو خراج تحسین پیش کیا۔ برطانیہ کے دوسرے وزیر اعظم مسٹر بالڈون (1947-1867ء) کا واقعہ ہے۔ وہ اپنی کار میں سفر کر رہے تھے۔ ایک چوراہا پر کار رکی۔ ٹریفک کی قطار میں ان کی گاڑی پیچھے تھی ۔ راستہ کھلا تو ڈرائیور نے قبل اس کے کہ آگے کی موٹریں گزریں، وزیر اعظم کی موٹر آگے نکال لینے کی کوشش کی۔ ٹریفک کانسٹیبل نے فی الفور روکا۔ ڈرائیور نے کہا کہ وزیر اعظم صاحب کو سرکاری کام کی وجہ سے جلدی ہے۔ کانسٹیبل نے کہا، مجھے اس سے کوئی بحث نہیں کہ موٹر نشین کون ہے۔ قانون کی رو سے ٹریفک کی پابندی عام شہری اور وزیر اعظم دونوں پر لازم ہے ۔ یہ سن کر وزیر اعظم نے موٹر سے اتر کر کانسٹیبل سے معافی مانگی اور ڈرائیور کو ہدایت کی کہ وہ کانسٹیبل کے حکم کی تعمیل کرے ۔ (نیشنل ہیرلڈ، جنوری (1978

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader