سبق آموز واقعات
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسری صبح مریض پھر آیا، حکیم صاحب نے نبض پر ہاتھ رکھا اور پوچھا، کہو کچھ فرق محسوس ہوا۔ مریض نے کہا ”نہیں حضور کچھ فرق نہیں بلکہ آج تو تکلیف اور بڑھ گئی ہے۔“ حکیم صاحب گہری سوچ میں پڑ گئے، ماتھے پر ہاتھ رکھا، لمبی سانس لی اور کچھ یاس آمیز لہجہ میں کہا اچھا لاؤ نسخہ دکھاؤ۔ ”نسخہ؟“ مریض بولا ”حضور نسخہ تو آپ کے ارشاد کے مطابق میں نے جوش دے کر پی لیا۔“ حکیم صاحب نے گھبرا کر آنکھیں اوپر اٹھائیں ”کیا کہا! نسخہ پی لیا“ ”جی حضور، نسخہ جوش دے کر پی لیا جیسا کہ آپ نے بتایا تھا کہ اس کو...“ ”ارے بدبخت“، حکیم صاحب غصہ سے بولے ”کہیں نسخہ بھی جوش دے کر پیا جاتا ہے، نسخہ میں جو دوا لکھی جاتی ہے وہ استعمال کی جاتی ہے، نہ کہ نسخہ کا کاغذ۔“ وہ اسلام پر کتاب لکھ رہے ہیں ڈاکٹر آر پی ترپاٹھی مغل تاریخ پر سند کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی کتاب ہسٹری آف دی مغلنس نے اپنے موضوع پر غیر معمولی شہرت حاصل کی ہے ۔ وہ اردو، فارسی، ہندی، سنسکرت اور انگریزی زبانوں سے بخوبی واقف ہیں۔ آج کل وہ لندن کے قریب ایسکس میں مقیم ہیں اور اسلام پر ایک کتاب لکھ رہے ہیں۔ 86 سال کی عمر کے باوجود وہ چار سال سے ہر روز کم از کم سات گھنٹے مطالعہ میں صرف کرتے ہیں ، تا کہ اس عظیم مذہب کے بارے میں اپنی کتاب کے لیے مواد جمع کر سکیں۔ ڈاکٹر ترپاٹھی کی ابتدائی تعلیم لکھنؤ میں ہوئی، جہاں ان کے والد سرکاری ملازمت میں تھے۔ بنارس یونیورسٹی سے انھوں نے ایم اے کیا۔ اس کے بعد الہ آباد یونیورسٹی میں لکچرر کی جگہ مل گئی ۔ اس زمانہ میں ایک بار ایسا ہوا کہ ایک انگریز افسر نے اتفاقاً ان کا لکچر سنا۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader