سبق آموز واقعات
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
لکچر سے وہ متاثر ہوا، اور اس نے اس کا اعتراف اس طرح کیا کہ لندن کے اسکول آف اورنٹیل اسٹڈیز میں ان کو اسکالر شپ دلوادی ۔ یہ 1916ء کا واقعہ ہے۔ مگر جب وہ لندن پہنچے تو اسکول کے پرنسپل نے کہا کہ میں آپ کو براہ راست ریسرچ میں داخلہ نہیں دے سکتا۔ پہلے آپ کو ہمارے یہاں سے ایم اے کا امتحان پاس کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر ترپاٹھی کو پرنسپل کی بات پسند نہیں آئی۔ وہ مشہور پروفیسر لاسکی سے ملے اور ان کو ساری بات بتائی۔ پروفیسر لاسکی نے کہا کہ آپ کسی بھی اپنے پسندیدہ موضوع پر ایک مضمون لکھ کر مجھ کو دکھائیے۔ انھوں نے مغل ایڈمنسٹریشن پر دس صفحات کا ایک مضمون لکھ کر پیش کیا۔ پروفیسر لاسکی کو وہ مضمون پسند آ گیا۔ انھوں نے ان کے اسی مضمون پر انھیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری دیدی۔ اور پھر لندن اسکول آف اکنا مکس میں ان کو ریڈر کی جگہ دلوادی جو اس زمانہ میں کسی ہندوستانی کے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔ وہ 20 سال تک اس اسکول میں ریڈر اور پھر پروفیسر رہے۔ Dr, R.P. Tripathi, Hornchurch Essex, England توسع اور رواداری برطانیہ کی یہودی ایکٹرس دُنیسیا ریڈگریو (1937 ,Vannesa Regdrave) کو 1977 میں ہالی وڈ کا بہترین انعام ”آسکر ایوارڈ“ ملا ہے۔ مالٹا کے سفر میں ایک اخبار نویس نے اس سے سوال کیا: ”کسی فن کار کے سیاسی نظریات کس حد تک عوام کو اس کے فن کے خلاف برگشتہ کر سکتے ہیں۔“ ریڈ گریو نے جواب دیا: ”میں نے ایک سامع کی حیثیت سے ویگنر (Wagner) کی موسیقی کو سننے سے اس لیے کبھی انکار نہیں کیا کہ ظالم ہٹلر اس کو بہت پسند کرتا تھا۔“

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader