رعایت نہیں صلاحیت
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
رعایت نہیں صلاحیت ہمارے ملک کی مسلم قیادت نے مسلمانوں کے مسئلے کے حل کا جو آخری راز دریافت کیا ہے، وہ یہ کہ ’’مسلمانوں کو وہ رعایتیں دی جائیں جو شیڈولڈ کاسٹ کے لیے مخصوص کی گئی ہیں‘‘۔ اولاً تو یہ ممکن نہیں۔ اور بالفرض یہ ناممکن اگر ممکن بھی ہو جائے تو یہ مسئلہ کا حل نہیں۔ کیونکہ اس قسم کی کوئی رعایت زندگی کے وسیع تر حقائق کا بدل نہیں بن سکتی۔ یہ دنیا استعداد کی بنیاد پر جگہ حاصل کرنے کی دنیا ہے ۔ یہاں محض رعایت سے کوئی شخص بلند مقام حاصل نہیں کر سکتا۔ ونیکر پال اور گووند کیلکرم نے شیڈولڈ کاسٹ اور قبائل کی موجودہ حالت کا جائزہ لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان رعایتوں نے ان طبقات کی حالت میں کوئی حقیقی تبدیلی پیدا نہیں کی ہے۔ اب بھی اگر کوئی ہر یجن کامیاب ہے تو وہ وہی ہے جس نے اپنے اندر کوئی خاص صلاحیت پیدا کی تھی ۔ مثلاً ڈاکٹر امبیڈ کر، شری جگ جیون رام، شری کے آر نارائن، وغیرہ۔ لکشمن ہلدر ایک مزدور تھے۔ پھر انھوں نے کچھ تعلیم حاصل کی اور ٹائپ کرنا سیکھا۔ اس کے بعد ان کو مرکزی حکومت میں رزرو سیٹ کے تحت کلرک کی ایک جگہ مل گئی۔ مگر ان کی انگریزی کمزور تھی۔ ان کے افسر نے ان کی کتاب میں لکھ دیا: His English is weak اس قسم کی رپورٹ تین سال تک درج ہوتی رہی۔ قاعدہ یہ ہے کہ اگر تین سال تک مسلسل کسی کے خلاف ’’بیڈرپورٹ‘‘ ہوتی رہے تو اس کی ملازمت ختم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ لکشمن ہلدر کو ختم ملازمت کا نوٹس مل گیا۔ تاہم انھوں نے دوڑ دھوپ کی۔ ایک ڈائرکٹر کو ان پر رحم آ گیا اور اس نے ان کی ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کردی ۔ اب لکشمن ہلدر نے محنت شروع کی اور مدت ختم ہونے تک انگریزی بولنے کی اچھی صلاحیت پیدا کر لی۔ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader