سبق آموز واقعات
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بعد وہ دوبارہ ملازمت میں لے لیے گئے۔ (السٹریٹڈ ویکلی، 24 اپریل 1976) لکشمن ہلد ر کو بالآخر جس چیز نے جگہ دی وہ ان کی صلاحیت تھی، نہ کہ رعایت۔ یہی بات ہر ایک کے لیے صحیح ہے، چاہے وہ ہر جن ہو یا غیر ہر جن ۔ خاموشی اختیار کرلی 1962 میں جب چین نے ہندوستان پر حملہ کیا، اس وقت مسٹروی کے کرشنامینن (1896-1974) ہندوستان کے وزیرِ دفاع تھے۔ اس کے بعد "ان سائڈ اسٹوری" اور "آن ٹولڈ اسٹوری" قسم کی بہت سی کتابیں لکھی گئیں جن میں مسٹر مینن کو اس حادثہ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ اس طرح کی کتابیں اور مضامین نے اس موضوع کو لوگوں کے لیے انتہائی طور پر دلچسپی کا موضوع بنا دیا۔ کرشنا مینن اس موضوع پر ایک کتاب لکھ کر ایک "بیسٹ سیلر" وجود میں لاسکتے تھے۔ متعدد ناشرین نے ان کو ایسی ایک کتاب کے لیے بڑی بڑی رقموں کی پیش کش کی۔ اخبارات نے اس موضوع پر مضامین لکھنے کے لیے گراں قدر معاوضے پیش کئے ۔ مگر کرشنا مینن نے بالکل خاموشی اختیار کرلی۔ الفاظ جو فضا میں گم ہو گئے مولانا محمد علی نومبر 1930 ء میں لندن کی گول میز کانفرنس میں شریک ہوئے تھے۔ یہاں انھوں نے جو طوفان خیز تقریر کی، اس کے چند الفاظ یہ تھے : ” آج میں جس مقصد کے لیے یہاں آیا ہوں، وہ یہ ہے کہ میں اپنے ملک کو ایسی حالت میں واپس جاؤں جب کہ آزادی کا پروانہ میرے ہاتھ میں ہو۔ میں ایک غلام ملک کو واپس نہیں جاؤں گا۔ اگر آپ مجھے ہندوستان کی آزادی نہیں دیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader