قومی کردار
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
پٹیل، پنڈت نہرو، راجندر پرشاد، وغیرہ سے ان کے قریبی تعلقات تھے۔ یہی نانک جی موٹوانی ہیں، جنھوں نے ہندوستان میں سب سے پہلے لاؤڈ اسپیکر کی صنعت قائم کی۔ انھوں نے دیکھا کہ ہندوستانی لیڈروں کے جلسہ میں بہت بڑا مجمع اکٹھا ہوتا ہے۔ مگر لاؤڈ اسپیکر نہ ہونے کی وجہ سے مقرر کی آواز پوری طرح لوگوں تک نہیں پہنچتی۔ انھوں نے اس کمی کو پورا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی فیصلہ کا نتیجہ مشہور لاؤڈ اسپیکر شکاگوریڈیو (Chicago Radio) تھا، جس سے آج سارا ہندوستان واقف ہے۔ صرف اخبار نکالنا اور جلسہ کرنا کام نہیں۔ کام یہ ہے کہ مختلف لوگ مختلف ضرورتوں کو پورا کرنے میں لگیں۔ اس کے بغیر حقیقی ترقی نہیں ہوسکتی۔ کون کس کی جیب میں پہلی جنگ عظیم کے بعد جس زمانہ میں خلافت تحریک کا زور تھا، علی برادران نے ملک کا دورہ کیا۔ ان کے ساتھ مہاتما گاندھی اور مولانا ابو الکلام آزاد بھی تھے۔ جوان دنوں ترک موالات کی تحریک چلا رہے تھے۔ مولانا شوکت علی ان دنوں اکثر فخریہ انداز میں کہتے تھے ”گاندھی جی میری جیب میں ہیں“۔ کچھ دنوں بعد سیاسی اختلافات ہوئے اور علی برادران نے مہاتما گاندھی کا ساتھ چھوڑ دیا اور اپنا راستہ الگ اختیار کیا۔ مولانا محمد علی لندن میں انتقال کر گئے ۔ اور مولانا شوکت علی محمد علی جناح کے ساتھ مل گئے۔ ایک بار مسلم لیگ کے جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے مولانا شوکت علی نے کہا: ”مہاتما گاندھی کہاں ہیں جنھوں نے گول میز کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کو سادہ چک دینے کے لیے تیار ہیں“۔ مہاتما گاندھی کو معلوم ہوا تو انھوں نے اپنی پرارتھنا کی تقریر میں اس کا جواب دیتے ہوئے کہا: ”بڑے بھائی کو اپنی جیب دیکھنا چاہیے ۔ وہ مجھ کو وہاں پائیں گے “ (ریڈینس، 26 نومبر 1978)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader