Urdu book · سبق آموز واقعات

قومی کردار

Urdu book, p. 62

By Maulana Wahiduddin Khan

کیسا عجیب مغربی پاکستان کے سابق گورنر امیر محمد خاں (وفات 1967ء) نے یورپ میں زرعی سائنس کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔ صدر ایوب (1974-1907ء) کی حکومت کے زمانہ میں پاکستان میں جو ''سبز انقلاب‘‘ آیا تھا، اس کا سہرا در اصل ملک امیر محمد خاں ہی کے سر ہے، جو اس وقت پاکستان کے غذائی وزرعی کمیشن کے صدر تھے، اور بعد کو اپنی خدمات کے اعتراف میں گورنر بنا دیے گئے۔ وہ مشرقی تہذیب کا نمونہ تھے۔ گورنر ہاؤس میں نماز روزہ کی سختی سے پابندی کرتے اور ان کے گھر کی خواتین ہمیشہ پردہ کے اندر رہتیں ۔ جب پاکستان کے تیسرے منصوبہ میں خاندانی منصوبہ بندی کے لیے 30 کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی تو انھوں نے اس کی سخت مخالفت کی۔ بات بڑھتی گئی ۔ یہاں تک کہ صدر ایوب نے جھنجھلا کر کہہ دیا کہ اگر آبادی کی روک تھام نہ ہوئی تو ایک وقت وہ آئے گا جب اناج کی کمی کی وجہ سے ایک پاکستانی دوسرے پاکستانی کو بھون کر کھائے گا۔ خوشی صرف اس بات کی ہے کہ اس وقت میں زندہ نہیں رہوں گا۔ ملک امیر محمد خاں نے ستمبر 1966ء میں گورنری سے استعفیٰ دے دیا۔ اور اپنے آبائی وطن کالا باغ چلے گئے ۔ جہاں ان کے کھیت اور باغات تھے۔ یہاں ان کے گھر پر جائیداد کا جھگڑا شروع ہوا۔ بالآخر ایک روز وہ خود اپنے بیٹے ملک محمد اسد خاں کے خلاف رائفل لے کر کھڑے ہو گئے۔ انھوں نے اپنے بیٹے پر گولی چلائی ، مگر وہ کندھے کو زخمی کرتی ہوئی نکل گئی۔ اب بیٹے کی باری تھی ۔ اس نے چھ گولیاں اپنے باپ کے جسم میں اتار دیں۔ اور وہ وہیں موقع پر ختم ہوگئے ۔ وہ شخص جس نے خاندانی منصوبہ بندی کو قتل قرار دے کر گورنری کے عہدہ کو چھوڑ دیا تھا، بالآخر خود اپنے بیٹے کے خلاف بندوق لے کر کھڑا ہو گیا۔ اگرچہ اس مقابلہ میں جوان بیٹا بوڑھے باپ پر غالب آیا اور نتیجہ برعکس شکل میں برآمد ہوا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page