قومی کردار
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
توہم پرستی کہاں تک لے جاتی ہے اہل کارتھیج اور رومیوں کی مشہور جنگ میں جب کارتھیج (Carthage) کے باشندوں کو شکست ہوئی تو انھوں نے سمجھا یہ اس غلطی کا نتیجہ ہے جو مولول (Moloch) دیوتا کی عبادت کے سلسلہ میں ان سے ہوتی رہی ہے۔ یہ دیوتا ان کے عقیدے کے مطابق ان کے اشراف کے لڑکوں کی قربانی پسند کرتا تھا۔ مگر کارتھیج کے اعلیٰ خاندانوں نے اپنے لڑکوں کو بچانے کے لیے کئی سال یہ کیا کہ وہ قربانی کے دن چپکے سے کسی معمولی لڑکے کو پکڑ کر اس کو قربان کر دیتے تھے۔ جب انھیں شکست ہوئی تو انھوں نے سمجھا کہ ان کی اس بدعنوانی کی وجہ سے دیوتا ناراض ہو گیا ہے۔ چنانچہ اعلیٰ خاندان کے کئی لڑکے مقدس آگ میں جھونک دیے گئے۔ خود را فضیحت دیگران را نصیحت ڈاکٹر محمد اقبال (1838-1977ء) کے پاس ایک بزرگ وراثت کے معاملہ میں قانونی مشورہ کے لیے آیا کرتے تھے۔ چونکہ ڈاکٹر صاحب داڑھی نہیں رکھتے تھے، وہ اکثر داڑھی کی اہمیت پر وعظ کہتے۔ آخر ایک دن ڈاکٹر اقبال نے کہا: آپ کی وعظ و تلقین کا میرے اوپر بہت اثر ہوا ہے۔ اب میں نے طے کیا ہے کہ آپ سے ایک معاہدہ کروں۔ جس طرح داڑھی نہ رکھنا ایک شرعی کوتاہی ہے، اپنی بہن کو وراثت سے محروم کرنا بھی اسی طرح شریعت کی خلاف ورزی ہے۔ پہلے گناہ میں میں مبتلا ہوں تو دوسرے میں آپ مبتلا ہیں۔ آئیے طے کیجیے۔ آج سے میں داڑھی رکھ لیتا ہوں اور آپ اپنی بہن کا وراشتی حصہ دے دیں۔ بزرگ اس معاہدہ کے لیے تیار نہ ہوئے۔ انھوں نے نہ اپنی بہن کو وراثت کا حصہ دیا اور نہ ڈاکٹر اقبال کے چہرہ پر داڑھی اگ سکی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader