Urdu book · سبق آموز واقعات

لکھنے کی دو قسمیں

Urdu book, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

لکھنے کی دو قسمیں ایک بہت بڑے شاعر کو میں نے ایک بار دیکھا۔ وہ ایک غزل لکھ رہے تھے۔ غزل کا آخری لفظ تھا: ’’انسان بنا دیا‘‘۔ میں نے دیکھا کہ کاغذ کے کنارے انھوں نے بہت سے ہم وزن الفاظ لکھ رکھے ہیں۔ مثلاً گلستاں، چمنستاں، زنداں، خموشاں، ویراں، بہاراں وغیرہ۔ ان الفاظ کو ذہن میں رکھ کر مضامین سوچتے ہیں، اور جب کوئی مضمون اس ردیف وقافیہ میں ڈھل جاتا ہے، تو اس کے بعد اسے کاغذ پر لکھ لیتے ہیں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ دو گھنٹے کے بعد وہ اس پوزیشن میں تھے کہ مشاعرہ میں یہ کہہ سکیں کہ: ’’تازہ غزل حاضر ہے‘‘۔ میں نے بزرگ شاعر سے کہا: ’’آپ کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی صلاحیت دی ہے۔ آپ اردو، عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں سے بخوبی واقف ہیں۔ آپ کو تو نثر کی چیزیں لکھنی چاہئیں۔ اس قسم کی شاعری آپ کے شایانِ شان نہیں‘‘۔ انھوں نے جواب دیا: ’’تم سچ کہتے ہو۔ مگر نثر میں لکھنے کے لیے مطالعہ اور تحقیق کی ضرورت ہے، اور وہ مجھ سے ہوتی نہیں۔ اگر مطالعہ اور تحقیق کے بغیر نثر لکھوں تو ایک پارہ ادب ضرور تیار ہو جائے گا۔ مگر ایسی کوئی کتاب نہیں بن سکتی جس کی آج کی دنیا میں قدر و قیمت ہو۔‘‘ یہ شعر کی مثال تھی۔ اب دیکھیے کہ ایک ’’کتاب‘‘ کس طرح لکھی جاتی ہے۔ ایک امریکی لاری کولنس (Larry Collins, 1929-2005) اور فرانسیسی ڈومینیک لپیری (Dominique Lapierre, 1931-2022) نے مل کر ہندوستان کی آزادی پر ایک کتاب لکھی ہے۔ جس کا نام ہے— ’’نصف شب کی آزادی‘‘: Freedom of Midnight, 1975

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page