Urdu book · سبق آموز واقعات

قومی کردار

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک بچہ پیدا ہوا۔ یہی وہ مشہور شاعر ہے جس کو دنیا عمرو بن کلثوم کے نام سے جانتی ہے۔ تاریخ ادب کے ناقدین اس قصہ کو من گھڑت کہتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ قصہ عمرو بن کلثوم کی شہرت کے بعد فرضی طور پر بنا لیا گیا ہے۔ مگر اسی قسم کے، اس سے زیادہ من گھڑت قصے ”بزرگوں“ کے بارے میں تصنیف کر لیے گئے ہیں اور ان کو لوگ اس طرح پڑھتے اور سنتے ہیں، جیسے وہ وحی آسمانی ہو۔ جس چیز کے ساتھ تقدس کا عنصر شامل ہو جائے وہ ہر جانچ سے بالا تر ہو جاتی ہے۔ بالکل بے اصل کہانیوں کو لوگ اس طرح ماننے لگتے ہیں، جیسے وہ کوئی حقیقی تاریخ ہو۔ لطیفہ شیخ سعدی شیرازی (1293-1193ء) کی عمر کا بیشتر حصہ بے سرو سامان درویشوں کی طرح سفر میں گزرا۔ ایک مرتبہ دمشق میں تھے، وہاں کے لوگوں سے کسی بات پر ناراضگی ہوئی تو فلسطین کے بیابان میں چلے گئے۔ یہ صلیبی جنگوں کا زمانہ تھا۔ وہاں عیسائیوں نے ان کو پکڑ لیا اور طرابلس الشرق (لبنان) کے علاقہ میں خندق کھودنے کے کام پر دوسرے قیدیوں کے ساتھ لگا دیا۔ وہ خاموشی کے ساتھ اس مشقت کو برداشت کرتے رہے۔ مدت کے بعد حلب کا ایک معزز آدمی اس طرف سے گزرا۔ وہ شیخ سعدی کو جانتا تھا۔ انھیں اس حال میں دیکھ کر اس کو بہت افسوس ہوا۔ دس دینار دے کر شیخ کو قید فرنگ سے چھڑایا اور اپنے ساتھ حلب لے گیا۔ وہاں عزت کے ساتھ اپنے گھر رکھا اور مزید عنایت یہ کی کہ اپنی نا کتخدا (unmarried) بیٹی سے ان کا نکاح ایک سو دینار مہر مؤجل پر کر دیا۔ مگر بیوی سخت مزاج اور تیز زبان نکلی۔ اس نے شیخ کو بے حد پریشان کر دیا۔ ایک روز طعنہ دیتے ہوئے کہا: ”تم وہی ہو جس کو میرے باپ نے دس دینار میں خریدا تھا۔“ شیخ سعدی نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page