قومی کردار
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
فوراً جواب دیا: ”ہاں میں وہی ہوں جس کو آپ کے باپ نے دس دینار میں خریدا اور سودینار میں آپ کے ہاتھ بیچ ڈالا۔“ الفاظ کا استعمال ڈاکٹر پرمود کمار نے دہلی سے امراض نسواں (Gynaecology) میں خصوصی ڈگری لی اور اس کے بعد لندن (آکسفورڈ اسٹریٹ) میں اپنا مطب کھولا۔ ایک روز ایک انگریز خاتون تیزی سے ان کے مطب میں داخل ہوئی ۔ ”ڈاکٹر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اپنی بات کو کس طرح بیان کروں “۔ اس نے کہا اور پھر ایک وقفہ کے بعد بولی: I think I have a touch of the sun ڈاکٹر کمار نے اس جملہ کا مطلب یہ سمجھا کہ خاتون غالباً کسی کھلے مقام پر گئی تھیں اور وہاں ان کو تیز دھوپ لگ گئی ہے ۔ ” آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں “، ڈاکٹر نے مریضہ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ” آپ ٹھنڈے مشروبات ، خاص طور پر لیموں برف کے ساتھ لیجیے اور آپ بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گی ، اگر جلد پر کچھ اثر محسوس ہو تو زیتون کا تیل یا کریم مل لیجیے “۔ خاتون پریشان چہرہ پر مزید حیرانی کے اثرات لیے ہوئے باہر نکل گئی اور ڈاکٹر کمار یہ سوچنے لگے ” انگریز خواتین آخرا اتنی معمولی معمولی باتوں کے لیے کیوں ڈاکٹر کے پاس آتی ہیں “۔ شام کو وہ اپنی قیام گاہ پہنچے ۔ وہاں مسز گلوریا، ان کی انگریز بیوی نے ان کا استقبال کیا۔ جب دونوں کھانے کی میز پر اکٹھا ہوئے تو انگریز خاتون نے دوبارہ وہی جملہ کہا، جس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader