قومی کردار
Urdu book, p. 72
By Maulana Wahiduddin Khan
کو وہ اپنے مطب میں ابھی سن آئے تھے : Darling, I think have a touch of the sun ڈاکٹر کمار نے حیرانی کے ساتھ کہا : " نہیں نہیں ، اس طرح تو میں پاگل ہو جاؤں گا۔ لندن کی خواتین ہر وقت بس سورج کی ہی بات کرتی ہیں "۔ دیر تک الفاظ کے تبادلہ کے بعد گلوریا نے محسوس کیا کہ اس کا ہندوستانی شوہر اصل بات کو سمجھ نہیں رہا ہے ، اس نے ہنستے ہوئے کہا " میرا مطلب یہ ہے کہ ہم جلد ہی تین ہونے والے ہیں "۔ انگریزی زبان میں ایک عورت اپنے حاملہ ہونے کو درجنوں طریقے سے بتا سکتی ہے ۔ مذکورہ بالا جملہ بھی اسی قسم کا ایک استعاراتی انداز ہے ، جس کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ " مجھے سورج چھو گیا ہے "۔ لطیفہ مرزا غالب (1869-1797ء) جس مکان میں رہتے تھے ، اس مکان میں چھت کے اوپر ایک کمرہ تھا اور اس کمرہ سے ملی ہوئی ایک تنگ و تاریک چھوٹی سی کوٹھری تھی۔ گرمی کے موسم میں وہ ٹھنڈی رہتی تھی۔ سخت موسم میں مرزا اسی کوٹھری میں بیٹھتے تھے۔ ایک بار رمضان کا مہینہ تھا ، سہ پہر کے وقت مرزا غالب اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ اس کوٹھری میں بیٹھے ہوئے چوسر کھیل رہے تھے اور تفریح کر رہے تھے۔ اتنے میں مفتی صدرالدین خاں آزردہ وہاں آ گئے۔ کوٹھری میں لہو ولعب کا منظر دیکھ کر انھوں نے مرزا سے کہا : ہم نے حدیث میں پڑھا تھا کہ رمضان کے مہینے میں شیطان کو قید کر دیا جاتا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3277) ۔ آج اس حدیث کی صحت پر شبہ ہو گیا۔ مرزا غالب فوراً بولے : " مولانا ! حدیث بالکل صحیح ہے ۔ بات یہ ہے کہ شیطان جہاں قید کیا جاتا ہے ، وہ یہی کوٹھری ہے "۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader