Urdu book · سبق آموز واقعات

قومی کردار

Urdu book, p. 74

By Maulana Wahiduddin Khan

اس میں سبق ہے ہنری ہر اس (1956-1889) ایک اسپینی مسیحی تھے ۔ وہ 34 سال کی عمر میں 18 نومبر 1922ء کو بمبئی کے ساحل پر اترے ۔ ہندوستان کی زمین نے انہیں متاثر کیا اور انھوں نے طے کر لیا کہ وہ اسی ملک میں رہ کر کام کریں گے۔ فادر ہر اس (Fr Henry Heras) چند دن بعد سینٹ زیویرس کالج کے پرنسپل سے ملے۔ وہ ایک تاریخ داں تھے ۔ اس لیے پرنسپل نے پوچھا آپ کون سی تاریخ پڑھانا پسند کریں گے ۔ فادر ہر اس نے فی الفور جواب دیا: ’’ہندوستانی تاریخ‘‘۔ پرنسپل کا اگلا سوال تھا، ہندوستانی تاریخ کے بارے میں آپ کا مطالعہ کیا ہے ۔ انھوں نے جواب دیا’’ کچھ نہیں۔ پھر آپ کیسے ہندوستانی تاریخ پڑھائیں گے ۔ فادر ہر اس کا جواب تھا۔ I shall study it ’’میں ہندوستانی تاریخ کو پڑھ کر اپنے آپ کو تیار کروں گا پھر اس کو پڑھاؤں گا‘‘۔ فادر ہر اس نے ہندوستانی تاریخ کے مطالعہ میں اتنی زیادہ محنت کی کہ وہ سرجادو ناتھ سرکار اور ڈاکٹر سر بندر ناتھ سین کے درجہ کے مورخ بن گئے۔ آج بمبئی میں ان کے نام پر تاریخی مطالعہ کا ایک بہت بڑا ادارہ قائم ہے جس کا نام ہے ۔ ہر اس انسٹی ٹیوٹ۔ اس قسم کے واقعات بزرگی کا ثبوت نہیں سکھ دیو پرشاد بسمل الہ آبادی (1975-1893ء) اردو کے شاعر تھے۔ 23 نومبر کو انھوں نے ایک غزل لکھی جس کا شعر تھا: بسمل آیا ہے اکیلا بسمل جائے گا اکیلا اگلے روز 23 نومبر 1975 کو ان کا انتقال ہو گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page