Urdu book · سبق آموز واقعات

چند واقعات

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

عوام میں مشہور ہوا تو انھوں نے کہا کہ یہ لوگ فرعون کی لعنت سے ہلاک ہوئے۔ (بعد کو ڈاکٹر جارج ڈین نے مقبرہ میں تین مہینے تک کام کیا۔ انھوں نے تحقیق کر کے بتایا کہ ہزاروں برس سے ابابیلیں اس مقبرہ کو اپنا گھونسلا بنائے ہوئے تھیں۔ ان کی بیٹ کی بدبو سے مقبرہ بھر گیا تھا۔ مذکورہ افراد اس سخت بدبو میں سانس لینے کی وجہ سے ہلاک ہوئے)۔ 3۔ کرنل اسٹافن برگ (Stauffenberg, 1907-1944) نے ہٹلر کے خلاف نہایت کامیاب منصوبہ بنایا تھا۔ جولائی 1944 میں اس نے ایک بریف کیس میں ایک ٹائم بم رکھ کر ہٹلر کے کیمپ ہیڈ کوارٹر میں پہنچادیا۔ اگر بروقت یہ بم پھٹ جاتا تو برلن میں مقیم تھوڑے سے جرمن فوجی افسر ریڈیو اسٹیشن پر قبضہ کر لیتے، اور نازی لیڈر کے خاتمہ کا اعلان کر کے جرمنی کی حکومت پر قبضہ کر لیتے۔ مگر ٹائم بم اس وقت پھٹا جب کہ ہٹلر کیمپ سے باہر آ چکا تھا۔ 4۔ 1947 میں کشمیر کے وزیراعظم مسٹر مہر چند مہاجن (1967-1889 ء) تھے ۔ انھوں نے اپنی کتاب ”لوکنگ بیک“ (Looking Back) میں الحاق کی کہانی بتاتے ہوئے لکھا ہے: پاکستان کا ایک منصوبہ یہ تھا کہ مہاراجہ کشمیر کو اور مجھ کو اغوا کر لیا جائے اور سنگین کی نوک پر ہم سے الحاق کے مسودہ پر جبری دستخط کرا لیے جائیں۔ منصوبہ یہ تھا کہ ہم کو بھیم بر کے ڈاک بنگلہ میں اس وقت گرفتار کر لیا جائے جب کہ ہم وہاں لنچ کھا رہے ہوں۔ بھیم بر بالکل پاکستان کی سرحد پر ہے اور کشمیر کو جانے والی مشہور مغل روڈ پر واقع ہے۔ اس روڈ کے ایک طرف کشمیر ہے اور دوسری طرف پاکستان۔ ہم نے طے کیا تھا کہ ہم 20 اکتوبر 1947 کو کٹھوعہ کا دورہ کریں گے اور 21 کو بھیم بر اور میرپور کی طرف جائیں گے۔ پاکستان کے لوگوں نے ایک ہتھیار بند موٹر تیار کر رکھی تھی، جو 21 کو ہماری گرفتاری کے لیے بھیم بر پہنچنے والی تھی۔ مگر واقعات کی ایک غیر متوقع کروٹ نے ہم کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page