سبق آموز واقعات
Urdu book, p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
اس وقت جاپان ایشیا کے ایک کمزور ملک کی حیثیت رکھتا تھا۔ قبلائی خان جیسے فاتح کی فوج سے مقابلہ کرنے کی طاقت ان میں بالکل نہیں تھی، تاہم ان کو اپنے خداوند ( آفتاب ) پر بھروسہ تھا جس کی وہ اپنے آپ کو اولاد کہتے ہیں۔ جیسے ہی خطرہ کا احساس ہوا، ان کا مذہبی پیشوا اٹھا اور لوگوں سے کہنا شروع کیا کہ سب لوگ دعائیں مانگو۔ انھوں نے رات دن اپنے دشمن کے مقابلہ میں اپنے خدا کو پکارنا شروع کیا۔ ابھی قبلائی خان کی فوج جاپان کے ساحل پر اتری بھی نہ تھی کہ زبردست سمندری طوفان آیا اور تمام تحری بیڑہ سمندر کی ہولناک لہروں میں غرق ہو گیا۔ حقائق غالب آئے پاکستان کے لیڈروں کا خیال تھا کہ برصغیر کے مغرب میں جب وہ مسلم حکومت قائم کر لیں گے تو پورا مغربی ایشیا اور خلیج فارس اور بحر احمر کے گرد واقع تمام ممالک جو انھیں کی طرح مذہباً مسلمان ہیں، ان کے ساتھ ہوں گے اور وہ بقیہ بھارت کے مقابلہ میں چھوٹے ہونے کے باوجود اپنے بھائیوں سے مل کر بہت بڑی حیثیت حاصل کر لیں گے۔ صدر ایوب کے زمانہ اقتدار (1958-1969ء) میں یہ امید کسی درجہ میں پوری بھی ہوئی۔ مگر بہت جلد زندگی کے حقائق غالب آگئے۔ مغربی ایشیا کے مسلم ممالک کے یہاں پٹرول کا خزانہ برآمد ہوا۔ اب انھیں ضرورت ہوئی کہ اس دولت کے ذریعہ اپنے ملکوں میں ترقیاتی اسکیمیں چلائیں ۔ ان کے پاس روپیہ با فراط تھا، مگر فنی واقفیت (Technical Know How) کی اسی قدر کی تھی ۔ یہ دوسری چیز انھیں پاکستان نہیں دے سکتا تھا۔ دوسری طرف ہندوستان پچھلے سو برس کی کوششوں کے نتیجہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader