Urdu book · سبق آموز واقعات

سبق آموز واقعات

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

میں اپنے کو اس قابل بنا چکا تھا کہ وہ مسلم ملکوں کی اس ضرورت کو پورا کر سکے ۔ چنانچہ ہندوستان کے ماہرین کو آج مسلم ممالک میں زبردست استقبال مل رہا ہے اور پاکستان پس پشت چلا گیا ہے۔ اخباری شہنشاہ یونسکو نے 200 قوموں کے ماس میڈیا کے بارے میں ایک سروے شائع کیا ہے۔ سروے کے مطابق اگر چہ موجودہ زمانہ میں نشر و اشاعت کے ذرائع ترقی کر کے سٹلائٹ کمیونی کیشن کے دور میں پہنچ گئے ہیں۔ مگر عملاً جو صورت حال ہے وہ یہ کہ ٹیکنیکل اعتبار سے چند ترقی یافتہ قومیں ہی دوسری تمام قوموں کے لیے خبر حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ اگر چہ 90 ملکوں میں قومی نیوز ایجنسیاں ہیں ، مگر یہ ممالک بھی اپنی ملکی خبروں کو دوسری اقوام تک پہنچانے کے لیے پانچ عالمی نیوز ایجنسیوں کے محتاج ہیں۔ یہ پانچ عالمی نیوز ایجنسیاں کسی ملک کی جن خبروں کو دوسری اقوام تک پہنچاتی ہیں ، وہ عام طور پر اس قوم کے برے پہلو اور ان کی غیر نمائندہ خصوصیات ہی ہوتی ہیں ۔ گویا پانچ نیوز ایجنسیاں تمام اخباری دنیا کی شہنشاہ ہیں۔ انسان اور کچھوا ہندوستان میں سب سے پہلا چڑیا گھر 1875ء میں قائم ہوا۔ یہ کلکتہ کے قریب علی پور میں ہے ۔ اس کولونی شیوینڈلر (1803-1882 Carl Louis Schwendler) نے قائم کیا تھا۔ 1875 میں یہاں ایک کچھوا تھا جس کی عمر اس وقت 50 سال تھی۔ یہ کچھوا آج بھی علی پور زو (zoo) میں موجود ہے اور اب اس کی عمر 150 سال ہو چکی ہے۔ ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page