موت سے بے خبری کیوں
Urdu book, p. 99
By Maulana Wahiduddin Khan
جیسا کہ معلوم ہے، کمپیوٹر میں پروگرامنگ کا طریقہ رائج ہے۔ جیسی پروگرامنگ کی جاتی ہے، اسی کے مطابق، کمپیوٹر اپنا کام کرتا ہے۔ یہی معاملے زیادہ بڑے پیمانے پر انسانی دماغ کا ہے۔ فطرت کی طرف سے اِس طرح ہر انسانی دماغ کی پروگرامنگ کردی گئی ہے۔ اس کے مطابق، ہر عورت اور مرد اپنی زندگی کے تمام کام کرتے رہتے ہیں۔ وہ اسی حال میں جیتے ہیں اور اسی حال میں مرجاتੇ ہیں۔ ہر انسان صرف محدودیت تک جیتا ہے اور اس کے بعد وہ مرجاتا ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ کوئی بھی انسان موت کے بارے میں نہیں سوچتا۔ ہر عورت اور مرد بار بار دوسروں کو مرتا ہوا دیکھتے ہیں، لیکن وہ اپنے آپ کو اس سے مستثنیٰ کئے رہتے ہیں۔ دوسروں کو مرتا ہوا دیکھنے کے باوجود ہر آدمی اس احساس میں جیتا ہے، جیسے کہ خود اُس پر موت آنے والی نہیں۔ اس کا سبب پروگرامنگ کا معاملہ ہے۔ فطرت نے انسانی دماغ کی جو پروگرامنگ کی ہے۔ اس میں سب کچھ ہے، لیکن ایک چیز اس پروگرامنگ میں موجود نہیں، اور وہ موت ہے۔ انسانی دماغ کی پروگرامنگ میں بھوک ہے، پیاس ہے، نیند ہے اور دوسری تمام چیزیں ہیں، لیکن پروگرامنگ کی اس فہرست میں موت سرے سے شامل نہیں۔ یہی وجہ ہے جس کی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ ہر انسان اس طرح جیتا ہے جیسے کہ اس پر موت آنے والی نہیں۔ اپنے داخلی شعور کے اعتبار سے ہر آدمی ابدیت (eternity) کے احساس میں جیتا ہے۔ اپنے ذاتی احساس کے اعتبار سے ہر آدمی اپنے آپ کو ابدی مخلوق سمجھتا ہے۔ وہ اپنے تمام معاملات کی منصوبہ بندی اس طرح کرتا ہے، جیسے کہ اس کو ہمیشہ کے لیے موجودہ دنیا میں رہنا ہے۔ اس معاملے میں انسان کی مثال ایک ایسے کمپیوٹر کی ہے جس کی پروگرامنگ میں موت (death) کا لفظ یا اس کا تصور شامل نہ کیا گیا ہو۔ ایسا کمپیوٹر آپ کو ہر بات بتائے گا، لیکن جہاں تک موت کا تعلق ہے، وہ اس بارے میں آپ کو کچھ نہیں بتا سکے گا۔ کمپیوٹر اپنی پروگرامنگ کے مطابق کام کرتا ہے۔ کوئی لفظ یا کوئی تصور جو کمپیوٹر کی پروگرامنگ میں شامل نہ کیا گیا ہو، اگر آپ اُس لفظ یا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader