Urdu book · سفر حیات

موت سے بے خبری کیوں

Urdu book, p. 100

By Maulana Wahiduddin Khan

تصور کے بارے میں کمپیوٹر سے سوال کریں، تو کمپیوٹر اُس کا جواب نفی کی صورت میں دے گا۔ مثلاً کمپیوٹر کی اسکرین پر یہ جملہ لکھا ہوا سامنے آجائے گا : Your search did not match any document. ڈی این اے (DNA) حیاتیاتی سائنس کی ایک نئی شاخ ہے۔ موجودہ زمانے میں اُس پر بہت زیادہ کام ہوا ہے اور انسانی شخصیت کے بارے میں انوکھی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ ڈی این اے کا فل فارم یہ ہے : Deoxyribonucleic Acid جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ڈی این اے، یا جینیٹک کوڈ (genetic code) میں کسی انسان کی شخصیت کے بارے میں تمام چھوٹی اور بڑی معلومات درج ہوتی ہیں۔ کوئی انسان کیسے دیکھے گا، کیسے سنے گا، کیسے مسکرائے گا، کیسے کلام کرے گا وغیرہ، تمام معلومات پوری تفصیل کے ساتھ اُس میں کیمیائی حروف (chemical letters) کی صورت میں درج رہتی ہیں۔ یہ معلومات انسانی زندگی کے تقریباً تین بلین مختلف موضوعات (3 billion different subjects) سے متعلق ہوتی ہے۔ ایک انسان کے جینیٹک کوڈ میں اتنی زیادہ معلومات ہوتی ہیں کہ اُن کو اگر ڈی کوڈ (decode) کرکے لکھا جائے تو اس کے لیے موجودہ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا جیسی انسائیکلوپیڈیا کی ایک ہزار جلدیں درکار ہوں گی۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ کسی انسان کے جینیٹک کوڈ میں انسائیکلو پیڈیا پائی جانے معلومات ہونے کے باوجود اُس میں موت (death) کے بارے میں کچھ بھی موجود نہیں۔ انسانی شخصیت کے اس دفتر میں اُس کے بارے میں تمام تفصیلات درج ہیں، لیکن اُس میں موت کا کوئی اندراج نہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موت کے معاملے کو خدا نے انسان کی اپنی اختیاری دریافت کے خانے میں رکھ دیا ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنی پروگرامنگ سے باہر نکل کر اپنی موت کے بارے میں سوچے اور اس کے مطابق، اپنے عمل کا منصوبہ بنائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page