موت سے بے خبری کیوں
Urdu book, p. 101
By Maulana Wahiduddin Khan
نیند کی مثال لیجیے ۔ نیند اور موت کے درمیان ایک مشابہت پائی جاتی ہے۔ اس فطری حقیقت کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: النّوم أختُ الموت (نیند موت کی بہن ہے)۔ کسی شخص کو جب نیند آتی ہے تو وہ بے خبر ہو جاتا ہے، اس طرح موت بھی بظاہر آدمی کو بے خبر کر دیتی ہے۔ لیکن نیند اور موت کے درمیان ایک بنیادی فرق ہے۔ نیند کا وقت ہر ایک کے لیے مقرر ہے، لیکن موت کا معاملہ کسی کے لیے اس طرح کی توقيتِ فطری (natural timing) کے ساتھ مقرر نہیں، موت بالکل نامعلوم طور پر اچانک آجاتی ہے۔ کوئی بچپن میں مر جاتا ہے، کسی کی موت جوانی میں آتی ہے اور کسی کی موت بڑھاپے میں۔ نیند اور موت کا یہ فرق ایک گہری حقیقت کو بتا رہا ہے۔ یہ حقیقت کہ نیند ہر آدمی کی پروگرامنگ کا فطری حصہ ہے، لیکن موت آدمی کی پروگرامنگ کا فطری حصہ نہیں۔ موت جب بھی آتی ہے، خدا کے براہِ راست فیصلے کے تحت آتی ہے۔ یہ خدا ہے جو خود اپنے فیصلے کے تحت، کسی کی موت کو مقدم کر دیتا ہے اور کسی کی موت کو مؤخر۔ موت کا تعلق نہ آدمی کی اپنی سوچ سے ہے، اور نہ اس کی فطری پروگرامنگ سے۔ جب کسی شخص کی موت واقع ہوتی ہے تو اس کا مطلب خاتمۂ حیات نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ظاہری موت کے باوجود اصل انسان اُس وقت بھی زندہ ہوتا ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ موت دراصل ایک منتقلی (transfer) کا معاملہ ہے۔ موت اُس خصوصی لمحے کا نام ہے، جب کہ انسان ایک مرحلۂ حیات (period of life) سے گزر کر دوسرے مرحلۂ حیات میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی مسافر اگلے اسٹیشن پر ایک سواری کو چھوڑ دے اور اس کے بعد دوسری سواری کے ذریعے اپنا مستقل سفر جاری رکھے۔ پروگرامنگ کے اس ظاہرہ (phenomenon) کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ موت کے بارے میں انسان کی غفلت کیوں ہے۔ کیوں ایسا ہے کہ انسان اپنے روزمرہ کے سفر کی پلاننگ ٹائم لمٹ (time limit) کو دھیان میں رکھتے ہوئے کرتا ہے، لیکن زندگی کا سفر جو بظاہر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader