موت سے بے خبری کیوں
Urdu book, p. 102
By Maulana Wahiduddin Khan
موت پر ختم ہورہا ہے، اس کی پلاننگ وہ اس عام اصول کے مطابق نہیں کرتا۔ کوئی عورت اور مرد اپنی زندگی کا سفر وقت پر مبنی پلاننگ (time based planning) کے تحت نہیں کرتے، یعنی وہ اس طرح نہیں سوچتے کہ چند دن میں تو مرنا ہے، پھر زیادہ سامان اکٹھا کرنے کی کیا ضرورت۔ وہ تکاثر (more and more) کی نفسیات میں جیتے جیتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اچانک مرجاتے ہیں۔ انسانیت کی پوری تاریخ میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے اور آج بھی ایسا ہی ہورہا ہے۔ یہ معاملہ اُس وقت سمجھ میں آتا ہے جب کہ خدا کے تخلیقی پلان (creation plan) کی روشنی میں اس کا مطالعہ کیا جائے۔ الہامی علم (revealed knowledge) کا مطالعہ بتاتا ہے کہ خدا نے جب انسان کو پیدا کیا تو پہلے ہی دن اس کو ابدی صورت میں پیدا کیا۔ خدا نے انسان کو پیدا کیا تو پہلے ہی دن اس کو ابدی صورت میں پیدا کیا۔ خدا نے انسان کو ایک لامحدود مائنڈ دیا اور اس میں ہر قسم کی معلومات بھر دیں۔ ڈی این اے (DNA) کے جدید مطالعے سے یہ بات سائنسی طور پر ثابت ہورہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک انسانی دماغ میں جو اعصاب (nerves) ہیں، وہ اتنے زیادہ ہیں کہ اگر ان کو پھیلایا جائے تو گلوب کے چاروں طرف ان کو تقریباً 25 بار لپیٹا جاسکتا ہے۔ اس تخلیق کے مطابق، ہر انسان پیدائشی طور پر یہ شعور لے کر پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایک ابدی وجود ہے۔ اس کا سفر موت پر ختم نہیں ہوتا، بلکہ وہ موت کے بعد بھی مسلسل طور پر جاری رہتا ہے۔ ہر انسان اسی ابدیّت کے شعور میں جیتا ہے۔ داخلی احساس کے تحت ہر انسان کی شخصیت ابدیت کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ خالق نے بطور واقعہ انسانی فطرت کی جو پروگرامنگ کی ہے، وہ ابدیت (eternity) کے حوالے سے کی ہے، یعنی جینے کے معاملے میں انسان کی جو نفسیات ہوتی ہے، وہ اُس سے مکمل طور پر مختلف ہوتی ہے جو ٹرین یا ہوائی جہاز کے سفر کے وقت ہوتی ہے۔ ٹرین یا ہوائی جہاز کے سفر میں انسانی ذہن کی پروگرامنگ محدود وقت کو لے کر ہوتی ہے۔ جب کہ زندگی کے معاملے میں انسانی ذہن کی پروگرامنگ زمان اور مکان کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader