موت سے بے خبری کیوں
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
محدودیت سے بالکل ماورا (beyond time and space) ہوتی ہے۔ نیچر کی یہی پروگرامنگ موت کے بارے میں انسان کی موجودہ نفسیات (psyche) کا اصل سبب ہے۔ انسان انسان جب بھی کسی کو مرتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ اس کے لیے اپنی نفسیات کے اعتبار سے ایک اجنبی واقعہ ہوتا ہے۔ اس کی اپنی فطرت کی پروگرامنگ اس کو بتا رہی ہوتی ہے کہ میں ایک ابدی شخصیت (eternal personality) رکھنے والا آدمی ہوں۔ اس طرح اپنے بارے میں اس کا شعور ابدیت (sense of eternity) اس میں رکاوٹ بن جاتا ہے کہ وہ موت کے اس خارجی واقعے کو اپنے اوپر منطبق (apply) کرے۔ وہ اپنی نفسیات کے تحت ایسے کسی واقعہ کو غیر‘‘ کا واقعہ (someone else’s phenomenon) سمجھ کر اسے نظر انداز کر دیتا ہے۔ ایسی حالت میں زندگی کی صحیح منصوبہ بندی کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے اندر اپنی پروگرامنگ سوچ پیدا کرے۔ وہ خود اپنے خلاف سوچنے کی صلاحیت کا ثبوت دے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ وہ پروگرامنگ کے اس معاملے سے اوپر اٹھے۔ وہ اپنی زندگی کے قبل از موت دور، اور بعد از موت دور میں فرق کرے، اور پھر اپنی زندگی کے لیے مبنی بر حقیقت منصوبہ بندی کر سکے۔ اس طرزِ فکر کو ایک لفظ میں انفصالی طرزِ فکر (detached thinking) کہا جا سکتا ہے۔ ایک شاعر نے اس قسم کی سوچ کو تجرید تصور کا نام دیا ہے۔ اس کا شعر یہ ہے: ہے داد کے قابل، میری تجرید تصور کرتا ہوں تجھے غیر کی محفل سے جُدا یاد اس فطری نقشے کو سامنے رکھیے تو معلوم ہوگا کہ کسی انسان کے لیے اپنی زندگی کی مطابق واقعہ منصوبہ بندی صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ اس کی منصوبہ بندی مبنی بر موت منصوبہ بندی (death- based planning) ہو، یعنی وہ اپنی زندگی کی منصوبہ بندی اس حقیقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے کرے کہ اس کا عرصۂ حیات (life span) موت سے پہلے کے دور سے لے کر موت کے بعد کے دور تک پھیلا ہوا ہے۔ تمثیل کی زبان میں کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ زندگی کسی انسان کے لیے ایک عارضی سفر ہے، اور موت گویا وہ اسٹیشن ہے جہاں اتر کر وہ اپنے مستقل دور حیات میں پہنچنے والا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader