Urdu book · سفر حیات

موت سے بے خبری کیوں

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

اس اصول کو سامنے رکھ کر جب غور کیا جائے تو الہامی علم (revealed knowledge) دوبارہ ہم کو رہنمائی دیتا ہے۔ اس رہنمائی کے مطابق، موت سے پہلے کا مرحلۂ حیات تیاری کا مرحلہ ہے، اور موت کے بعد کا مرحلۂ حیات تیاری کے مطابق اپنا مستقل انجام پانے کا مرحلہ۔ گویا کہ ہماری موجودہ زندگی ایک قسم کے امتحان ہال میں گزر رہی ہے۔ یہاں کی ہر چیز پرچہ امتحان (test paper) ہے۔ یہاں جو کچھ ہمارے ساتھ پیش آتا ہے، خواہ وہ اچھا ہو یا برا، وہ سب کا سب اپنی نوعیت کے اعتبار سے پرچہ امتحان ہوتا ہے۔ موجودہ دنیا میں کوئی بھی چیز جو انسان کو ملتی ہے، وہ اُس کے لیے نہ انعام ہے اور نہ سزا۔ انعام اور سزا دونوں کا معاملہ موت کے بعد کے مرحلۂ حیات سے متعلق ہے، وہ موت سے پہلے کے مرحلۂ حیات سے متعلق نہیں۔ یہی انسانی زندگی کی اصل حقیقت ہے۔ ہر عورت یا مرد کو اسی حقیقت کے مطابق، اپنی زندگی کا نقشہ بناتا ہے۔ فطرت کی پروگرمینگ کے مطابق، انسان موجودہ زندگی ہی کو اپنی مستقل زندگی سمجھ لیتا ہے۔ حالاں کہ موجودہ زندگی صرف ایک عارضی زندگی ہے۔ جس طرح کوئی طالب علم عارضی طور پر امتحان ہال میں کچھ وقت گزارتا ہے اور اس کے بعد وہ اپنی اصل زندگی کی طرف لوٹ جاتا ہے، اسی طرح انسان موجودہ دنیا میں عارضی طور پر آیا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنی اصل دنیا کی طرف لوٹ جائے گا۔ موجودہ دنیا میں مبنی بر حقیقت منصوبہ بندی کے لیے اینٹی پروگرمینگ سوچ یا آؤٹ آف پروگرمینگ سوچ کی ضرورت ہے۔ بظاہر یہ ایک بے حد مشکل کام معلوم ہوتا ہے، کیوں کہ اینٹی پروگرمینگ سوچ ایک دو طرفہ سوچ کا نام ہے۔ اس میں آدمی کو ایک طرف موجودہ عارضی مدت حیات کے اعتبار سے سوچنا پڑتا ہے، اور عین اُسی وقت ضرورت ہوتی ہے کہ وہ بعد از موت ابدی مدت حیات کے اعتبار سے سوچے ۔ مگر یہ دو طرفہ سوچ انسان کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔ انسانی دماغ کی صلاحیت (capacity) اتنی زیادہ ہے کہ وہ ہر قسم کی متضاد سوچ کا احاطہ کر سکتا ہے۔ اسی حقیقت کو ایک برطانی مفکر (Walt Whitman) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: I am large enough to contain all these contradictions.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page