موت سے بے خبری کیوں
Urdu book, p. 105
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ اپنی پسند کے دوسرے معاملات میں اسی متضاد طرزِ فکر کو سمیٹے ہوئے ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں اپنی پروگرامنگ سوچ انسان کے لیے کوئی ناممکن سوچ نہیں، وہ ہر عورت اور مرد کے لیے پوری طرح ممکن ہے۔ اب ہر عورت اور مرد کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنی موجودہ عارضی زندگی کو کس نہج پر گزارتا ہے، ایسے نہج پر جو اس کو اپنے ابدی دورِ حیات میں جنت میں پہنچانے والا ہے، یا جہنم میں۔ جدید تہذیب مادی راحت (material comfort) کے تصور پر قائم ہے۔ جدید تہذیب کے تحت انسانی زندگی کا جو نقشہ بنا ہے، اُس میں صرف آج (today) کا تصور ہے، اُس میں کل (tomorrow) کا تصور نہیں۔ چناں چہ کہا جاتا ہے کہ خوب کام کرو اور خوب عیش کرو: Work hard, party hard اس جدید ذہن کا کلمہ یہ ہے۔ ابھی اور اسی وقت (right here, right now)۔ موجودہ زمانے میں اس نظریے پر بہت زیادہ لکھا گیا ہے۔ جدید میڈیا تمام تر اسی تصور پر چلایا جاتا ہے۔ بطور مثال یہاں صرف ایک آرٹیکل کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی روزنامہ ٹائمز آف انڈیا (27 جنوری 2008) میں ایک آرٹیکل اس موضوع پر چھپا ہے۔ اس کے لکھنے والے کا نام ڈونا (Donna Devane) ہے۔ یہ آرٹیکل حسب ذیل عنوان کے تحت مذکورہ اخبار میں شائع ہوا ہے: Be happy here and now. زندگی کو کامیاب بنانے کا یہ تصور فطرت کے نقشے کے بالکل خلاف ہے۔ ڈی این اے (DNA) اور جینیٹک کوڈ (genetic code) کے مطابق، انسان کی زندگی پورے معنوں میں ایک ابدی زندگی ہے۔ وہ آج سے لے کر کل تک پھیلی ہوئی ہے۔ فطرت کے تخلیقی نقشے کے مطابق، یہ ایک خطرناک قسم کا ناقص تصورِ حیات ہے کہ آج کو لیا جائے اور کل کے بارے میں کچھ نہ سوچا جائے ۔ جب ڈی این اے کی دریافت بتاتی ہے کہ انسان ایک مسلسل حیاتیاتی سلسلے کا نام ہے، تو انسان کے لیے مفید طریقہ یہی ہے کہ وہ اپنی زندگی کا نقشہ ابدیت (eternity) کو لے کر بنائے، نہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader