آغاز کلام
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں بتائیں ۔ یہ اور اس طرح کی دوسری پیشین گوئیاں حضرت مسیح کے بعد کی شخصیتوں میں جس کے اوپر صادق آتی ہیں، وہ صریح طور پر پیغمبر اسلام کی ذات ہے۔ مگر مسیحیوں نے " تسلی دہندہ" کو روح القدس قرار دے کر سارے مفہوم کو الٹ دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ تسلی دہندہ روح القدس کی شکل میں حضرت مسیح پر ایمان لانے والے کے اوپر آتا ہے اور اس کے ذریعہ ان سچائیوں کو ظاہر کرتا ہے جو حضرت مسیح نے نہیں بتائیں۔ اس تعبیر کے ذریعہ انھوں نے ان تمام اضافوں کو حق بجانب قرار دینے کا جواز ڈھونڈ لیا جو حضرت مسیح کے بعد ان کے ماننے والوں نے حضرت مسیح کے مذہب میں کیں۔ اس نے کلیسا کو حضرت مسیح کا دائمی اور مستند نمائندہ بنا دیا۔ اس طرح انھوں نے اپنے آپ کو اس آخری اور ابدی سچائی سے محروم کر لیا جو پیغمبر اسلام کے ذریعہ ظاہر کی گئی ہے۔ " فارقلیط " کی صحیح تعبیر کی جائے تو اس سے نبوت محمدی کا اثبات ہوتا ہے اور اس کی غلط تعبیر کی جائے تو اس سے کلیسا کا مذہب برآمد ہو جاتا ہے ۔ تاہم مسیحی جانب نے اس نقطہ نظر سے بچنے کی کوشش کی اس کی کوشش یہ رہی کہ اس اختلافی بحث کو نظر انداز کر کے اتفاق کی مشترک بنیادیں تلاش کی جائیں ۔ مسیحی جانب کے بعض ذہین لوگوں نے یہ کوشش کی کہ مسیحیت کے جو عقائد اسلام کی نظر میں قابل اختلاف ہیں ، ان کی ایسی خوبصورت تاویل کی جائے کہ وہ قابلِ قبولی نظر آنے لگیں۔ مثلاً مسیح کے ابن اللہ ہونے کا معاملہ ۔ ایک مسیحی نمائندہ ڈاکٹر شو لیکن نے کہا کہ مسیح کے ابن اللہ ہونے کا مطلب در اصل بشریت کے اعلی معیار کو ممثل کرنا ہے ۔ انسان ایک بشر کی حیثیت سے پیدا ہوتا ہے۔ مگر اپنے اعلیٰ کردار کے ذریعہ اس کو خدا جیسا بننا ہے۔ مسیح کا خدا کا بیٹا ہونا اعلیٰ ترین انسانی بلندی کی تمثیل ہے۔ مگر یہاں فوراً یہ سوال تھا کہ مسیح کا ابن اللہ ہونا اگر تمثیلی معنوں میں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان خدا کا بیٹا بن سکتا ہے۔ اس تعبیر کے بعد کفارہ کے عقیدہ کے لیے کوئی بنیاد نہیں رہتی جس پر موجودہ مسیحیت کی ساری عمارت قائم ہے۔ ایک ملاقات میں میں نے ڈاکٹر شو لیکن کے سامنے یہ سوال رکھا تو انھوں نے کہا کہ میرا نقطہ نظر بلاشبہ ویٹیکن کے سرکاری عقیدہ کے خلاف ہے مگر ہمارے یہاں فکری آزادی ہے ۔ وہ واحد مسئلہ جس پر دونوں فریقوں کا سب سے زیادہ اتفاق ہو سکا وہ " انحراف الشباب فی جانبين کا مسئلہ تھا۔ یہ مسلم اور عیسائی دونوں معاشروں کا مشترک مسئلہ ہے کہ نوجوان طبقہ مذہبی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader