Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

آغاز کلام

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

روایات سے کٹ کر الحاد کی طرف چلا جا رہا ہے۔ متفقہ طور پر یہ رائے سامنے آئی کہ اس مسئلہ کے مقابلہ کے لیے دونوں کو مل کر کام کرنا چاہیے ۔ مگر اس معاملہ میں کوئی ٹھوس پروگرام وضع نہ کیا جا سکا۔ ایک صاحب نے " بدر الحوار مع الملحدین " کی تجویز پیش کی ۔ یعنی جس طرح مسلمان اور عیسائی یہاں بیٹھ کر گفتگو کر رہے ہیں، اسی طرح ملحدین سے بھی گفتگو کا آغاز کیا جائے ۔ مگر یہ کوئی تجویز نہیں۔ اس قسم کی باتیں صرف یہ ثابت کرتی ہیں کہ مسئلہ کے احساس کے باوجود اس معاملہ میں ابھی تک زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچا نہیں جا سکتا ہے ۔ راقم الحروف کا تجربہ ہے کہ ۹۹ فی صد لوگ وقت اور موضوع کے حدود میں رہ کر بول نہیں جانتے ۔ طرابلس کا سیمینار بھی اس سے مستثنیٰ نہ تھا۔ بیشتر تقریریں اور مقالے غیر ضروری طور پر طویل اور موضوع سے ہٹے ہوئے تھے ۔ ایک شخص کھڑا ہو کر یہ کہتا : انی لا احب الاطالة علیکم اور جب اس اظہار کے باوجود اس کی تقریر لمبی ہو جاتی تو آخر میں معذرت کرتا کہ : ایہا الاخوة اشكرکم علی صبرکم ۔ ایک شخص اصل موضوع سے ہٹ کر کسی دوسرے موضوع پر لمبی تقریر ڈالتا اور پھر یہ کہہ کر حاضرین کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا : فما اظن انی قد ابتعدت من الموضوع کوئی شخص مقررہ وقت میں اپنی تقریر ختم کر دیتا تو یہ اتنی نادر چیز ہوتی کہ صدر جملہ اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ الفاظ بھی ادا کرتا : اشکر خاصة علی تقييدہ بالوقت المحدد۔ ندوۃ الحوار الاسلامی المسیحی میں یورپ کے ایک پادری سے میں نے بائبل کے عربی ترجمہ کی خواہش ظاہر کی ۔ اگلے دن انھوں نے نہایت عمدہ چھپائی اور نہایت عمدہ جلد کے ساتھ عربی انجیل کا ایک نسخہ مجھے ہدیہ پیش کیا ۔ بعد کو مکمل بائبل عربی میں مجھے ڈاک سے مل گئی ۔ عیسیٰ بشر بن اپنی مقدس کتاب ہر زبان میں سارے عالم میں پھیلا رہے ہیں ۔ کاش اسی طرح ہم قرآن کو ہر زبان میں ساری دنیا میں پھیلا سکیں ۔ فروری کی ۳ تاریخ تھی اور شام ۷ بجے کا وقت ۔ طرابلس کے مسرح التحریر میں ۴۰ سے زیادہ ملکوں کے تقریباً پانچ سو مسلمان اور عیسائی جمع تھے ۔ اچانک کارروائی رک گئی۔ لوگ گیٹ کی طرف دوڑ پڑے۔ فوٹو گرافر بھاری بھاری کیمرے ہاتھ میں اٹھائے ہوئے مسلسل شاٹ لینے لگے۔ معلوم ہوا کہ لیبیا کے صدر کرنل معمر قذافی آئے ہیں ۔ وہ بالکل اچانک آئے تھے ۔ لوگوں نے کوشش کی کہ ان کو ڈائس پر لے جائیں ۔ مگر وہ عام لوگوں کے ساتھ ایک خالی سیٹ پر بیٹھ گئے اور نہایت خاموشی کے ساتھ کارروائی سننے لگے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page