آغاز کلام
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئے کہ وہ باہم اتفاق کی بنیادیں تلاش کریں اور ایک مسیح کے الفاظ میں " ماضی کو غرفة المحفوظات میں ڈال دیں " اگر چہ یہ ایک واقعہ ہے کہ اس قسم کی کوشش سے فائدہ وہی گروہ اٹھا سکتا ہے جو اس سے پہلے اپنی کوئی مثبت جدوجہد منظم کر چکا ہو اور اس کو باقاعدہ چلا رہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وبشکن نے اس موقع پر حکومت لیبیا سے یہ اجازت حاصل کر لی کہ وہ بن غازی میں اپنا ایک چرچ قائم کرے ۔ جب کہ مسلمان اس سیمنار سے اس قسم کا کوئی ٹھوس فائدہ حاصل نہ کر سکے ۔ سیمنار کا خاص مقصد دونوں مذاہب کے درمیان متفقہ بنیاد تلاش کرنا تھا۔ سب سے زیادہ طویل گفت گو جس مسئلہ پر ہوئی وہ یہ کہ مذہب کا تصور کیا ہے ۔ مسلم جانب کا زور اس پر رہتا کہ مذہب ایک مکمل قانون ہے ۔ زندگی کے تمام معاملات اس کے دائرہ میں شامل ہیں ۔ اس کے برعکس مسیحی جانب کا کہنا تھا کہ مذہب ایک روحانی چیز ہے ، وہ بطور ایک قوت محرکہ کے انسان کی سرگرمیوں میں شامل رہتا ہے۔ مگر قوانین و ضوابط کی شکل میں وہ اپنا کوئی مخصوص ڈھانچہ نہیں رکھتا کچھ لوگوں نے یہ بحث چھیڑ کر مجلس میں کافی گرمی پیدا کر دی کہ عیسائی حضرات فلسطین اور اس قسم کے دوسرے معاملات میں کھل کر مسلمانوں کی حمایت کیوں نہیں کرتے ۔ میں نے اپنی تقریر میں اس پر زور دیا کہ " اس قسم کے تمام مسائل ثانوی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اصل سوال اسلام کے مذہبی استناد کو تسلیم کرنے کا ہے جس کا عیسائی حضرات اب تک انکار کرتے رہے ہیں ۔ اگر چہ ایسے عیسائی کثیر تعداد میں موجود ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو بطور واقعہ تسلیم کرتے ہیں ۔ مگر ان کا یہ ماننا انفرادی طور پر ہے ۔ کلیسا نے اب تک اس کو نہیں مانا ہے " افریقہ کے ایک پادری نے اپنی تقریر میں اعلان کیا کہ میں حضرت محمد کو سچا رسول مانتا ہوں ۔ مگر ویٹکن کے نمائندہ نے یہ کہہ کر اس کی تردید کر دی کہ یہ ان کی انفرادی رائے ہے ۔ تاہم اس نے کہا کہ ویٹکن نے ایک کمیٹی خاص اس مقصد کے لیے مقرر کی ہے جو اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کیا ہم حضرت محمد کی نبوت کو بطور واقعہ تسلیم کر سکتے ہیں ۔ راقم الحروف نے اپنے مقالہ میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ وہ بنیادی نکتہ جہاں سے مسلمان اور عیسائی ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں ، وہ " فار قلیط " کی تعبیر کا اختلاف ہے ۔ یوحنا کی انجیل صاف طور پر بتاتی ہے کہ حضرت مسیح نے اس دنیا سے جاتے ہوئے اپنے شاگردوں سے کہا کہ میرے بعد خدا ایک تسلی دہندہ (یا ستوده صفات) بھیجے گا جو اب تک تمہارے ساتھ رہے گا ۔ وہ کل سچائی کو ظاہر کرے گا ، وہ دنیا کا سر دار ہوگا ، وہ ان باتوں کو بھی بتائے گا جو میں نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader