لندن میں چند روز
Urdu book, p. 104
By Maulana Wahiduddin Khan
کی ملکہ کے بارہ میں ایک دلچسپ مضمون نظر سے گزرا۔ اس کا پہلا جملہ یہ تھا : Mystery is the Secret of Royalty (بادشاہت کا راز اس کا پراسرار ہونا ہے) اگر لوگ یہ جان لیں کہ بادشاہ بھی انہیں جیسا ایک انسان ہے تو بادشاہت کی جڑیں اکھڑ جائیں۔ " وہ اگر یہ چاہتا ہے کہ وہ کوئل دکھائی دے تو اس کو سب سے دور کی شاخ پر بیٹھنا چاہئے اور اسی کے ساتھ اپنے منہ کو بند رکھنا چاہئے، " لوگوں کے اوپر بادشاہ بننے کے لئے ضروری ہے کہ لوگ بادشاہ کو اپنے سے زیادہ عقل مند اور بڑا سمجھیں ۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ بادشاہ مسلسل لوگوں سے دور رہے اور کم سے کم بولے۔ کہا جاتا ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کبھی عوام کے درمیان ہنسی نہیں : She never smiled in public برطانیہ کا بادشاہ برطانی لوگوں کی روایت پرستی کی بنا پر ابھی تک بادشاہ بنا ہوا ہے۔ مگر زمانہ کی تبدیلی نے موجودہ زمانہ کے بادشاہ کے لئے ایسے مسائل پیدا کر دئے ہیں جن کا حل بظاہر آسان نہیں ۔ موجودہ زمانہ آزادی خیال کا زمانہ ہے ۔ جابرانہ حکومتیں بھی موجودہ زمانہ میں یہ نہیں کر پاتیں کہ وہ پریس کی آزادی پر پابندی لگا دیں ۔ اس سلسلے میں ایک دلچسپ لطیفہ مشہور ہے۔ فرانس کے جنرل ڈیگال جب اپنے ملک میں بر سر اقتدار آئے تو ابتداء اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کے لئے انہوں نے کافی جبر سے کام لیا ۔ لوگوں پر مظالم بھی کئے گئے ۔ مگر اسی زمانہ میں مشہور فلسفی سارتر آزاد تھا اور حکومت کی پالیسیوں پر کھلی تنقیدیں کرتا تھا۔ کسی نے جنرل ڈیگال سے کہا کہ آپ کی حکومت نے سارتر کے مخالف قلم کو آزاد کیوں چھوڑ رکھا ہے۔ ڈیگال نے جواب دیا : سارتر جیسے لوگ حکومتوں کا ضمیر ہوتے ہیں اور ضمیر کو قید نہیں کیا جا سکتا ۔ برطانی پریس نے آجکل شاہی خاندان کے اندرونی حالات چھاپنے شروع کر دئے ہیں۔ لندن کے اخبار سن نے شہزادی ڈائنا کے بارہ میں لکھا کہ محل کے باورچی خانہ میں وہ ننگے پاؤں تھیں اور ٹوسٹ پر مکھن لگا رہی تھیں ۔ اس طرح کے انکشافات شاہی خاندان کی عظمت (Majesty) کو مجروح کرتے ہیں۔ چنانچہ ملکہ الزبتھ نے لندن کی عدالت میں مذکورہ اخبار کے خلاف مقدمہ دائر کیا کہ اس کو محل کی اندرونی باتوں کو چھاپنے سے روکا جائے ۔ اسی طرح ۱۹۸۲ میں جب مسٹر فایگن (Michael Fagan) محل میں داخل ہوا اور ملکہ کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader