لندن میں چند روز
Urdu book, p. 105
By Maulana Wahiduddin Khan
خواب گاہ تک پہنچ گیا جہاں وہ اکیلی تھیں تو لوگوں نے سوال کرنا شروع کیا کہ فلپ صاحب کہاں تھے : اس کے بعد اخباروں نے انکشاف کیا کہ چونکہ مسٹر فلپ (ملکہ کے شوہر) سوتے وقت خراٹا لیتے ہیں اس لئے ان کو ملکہ کے کمرہ میں سونے کی اجازت نہیں ۔ وہ رات کے وقت دوسرے کمرہ میں سوتے ہیں ۔ کالم نگار اپنی رپورٹ ان الفاظ پر ختم کرتا ہے : شاہی خاندان کے لئے یقینا یہ بڑی سخت زندگی ہے کہ ان حالات میں وہ اپنے آپ کو اعتدال پر قائم رکھیں ۔ ایک ہی وقت میں وہ عام آدمی بھی ہوں اور بادشاہ بھی ۔ عوام میں وہ جتنا زیادہ اپنی شاہی عظمت کو باقی رکھنے کی کوشش کریں گے اتنا ہی زیادہ اندیشہ ہے کہ وہ اپنی نجی زندگی میں جذباتی بن جائیں ۔ ایسے باورچیوں کے ساتھ جو پریس کو ہر بات بتانے کے لئے تیار رہتے ہیں ، ان کے لئے نہ ہنسنے کا موقع باقی رہا ہے اور نہ چیننے کا ۔ یہ ہمارے دقت کی ایک دو طرفہ مشکل ہے ۔ ایک ملکہ یا شہزادہ باہر سے دیکھنے میں لوگوں کو پرکشش معلوم ہوتے ہیں ۔ مگر ان کو اندر سے دیکھئے تو صورت حال بالکل مختلف ہوگی ۔ ہفتہ وار ٹائم (نیویارک) میں خطوط کے کالم میں شاہی تعاقب (Royal Hunt) کے عنوان کے تحت ایک خاتون لکھتی ہیں : جب میں چھوٹی تھی تو میں کسی شہزادہ سے شادی کرنے کا خواب دیکھتی تھی ۔ اب یہ پڑھنے کے بعد کہ پریس کس طرح شہزادی ویلز کا پیچھا کرتا ہے ، میری سمجھ میں آیا کہ یہ کتنا اچھا ہے کہ میرا دوشہزادہ “ ایک دوا ساز ہے ۔ شاہی ادارہ کو باقی رکھ کر برطانی لوگ زبردست فائدہ اٹھار ہے ہیں ۔ شاہ اور ملکہ کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader