لندن میں چند روز
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
لفظ برطانیہ میں سیکڑوں سال کی قابل احترام تاریخ رکھتا ہے۔ اس طرح شاہ اور ملکہ برطانیہ عوام کے لئے اتحاد اور اتفاق کا مرکزی نقطہ (فوکس) فراہم کرتے ہیں۔ یہ وہ فائدہ ہے جو اندرونی اتحاد کی صورت میں برطانیہ کو شاہی ادارہ سے حاصل ہوتا ہے ۔ آسٹریلیا میں یہ ذہن ابھر اک آسٹریلیا کامل طور پر برطانیہ سے موجودہ دستوری رشتہ کو ختم کرلے۔ برطانیہ نے یہ کیا کہ شہزادہ چارلس اور شہزادی ڈائنا کو وہاں بھیج دیا۔ میں جن دنوں لندن میں تھا، دونوں شاہی افراد آسٹریلیا کے دورہ پر تھے۔ ٹائس (۲۶ مارچ ۸۳ ۱۹) نے رپورٹ شائع کی تھی کہ شاہی جوڑا جب سڈنی پہنچا تو عوام بیتاب ہو کر سڑکوں پر نکل پڑے ۔ عوامی سمندر میں ایک شخص نے پیلے کارڈ بلند کیا جس پر لکھا ہوا تھا کہ شاہ واپس جاو (Go Home Royals) ایک معمر خاتون لپک کر آئیں اور پیلے کارڈ چھین کر اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ عظمت اور تقدس کی طویل روایت کے ساتھ آسٹریلیا کے شاہی دورہ نے وہاں کے معاملہ کو ٹھنڈا کر دیا۔ برطانیہ نے اگر چہ اپنا سیاسی امپائر کھو دیا ہے ۔ مگر اس نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ اپنی عالمی تصویر کو محفوظ رکھا ہے ۔ پاکستان ائیرویز کے بعد برٹش ایرویز غالباً واحد ہوائی کمپنی ہے جس کے جہازوں میں چھ زبانوں کے ساتھ اردو زبان میں بھی ہدایات لکھی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس طرح انگریز اپنی عالمی تصویر کو باقی رکھے ہوئے ہیں۔ اس سے ان کو زبردست سیاسی اور تجارتی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ جو ممالک اب بھی ” برطانی کا من ویلتھ “ کے نام سے برطانیہ کی چھتری میں موجود ہیں ان کو اپنے ساتھ باندھنے رکھنے کے لئے بھی بادشاہت کا ادارہ بہت موثر ہے ، جب بھی کسی ملک میں ناراضگی کی لہر اٹھتی ہے تو انگریز اپنے بادشاہ یا ملکہ کو وہاں بھیج دیتے ہیں۔ جو وہاں جاکر کیمرہ کے سامنے مسکراتا ہے اور ہاتھ ہلا کر لوگوں کو مبارک باد دیتا ہے۔ اس کے بعد تمام مسئلے اپنے آپ ختم ہو جاتے ہیں۔ اس طرح برطانیہ نے اپنے پچھلے مقبوضات میں بہت بڑے پیمانہ پر اپنے اقتصادی مفادات محفوظ کر رکھے ہیں ۔ لندن کے قیام کے زمانہ میں میں نے اپنی گھڑی میں تبدیلی نہیں کی تھی ۔ چنانچہ جب لندن میں چھ بجے کا وقت ہوتا تو میری گھڑی میں بارہ بج رہے ہوتے۔ ایک مرتبہ جب میں نے اچانک اپنی گھڑی دیکھی تو ایک لمحہ کے لئے مجھے ایسا محسوس ہوا گویا میں لندن والوں کے مقابلہ میں چھ گھنٹے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader