لندن میں چند روز
Urdu book, p. 107
By Maulana Wahiduddin Khan
آگے ہوں ۔ مگر بہت جلد میری غلط فہمی دور ہو گئی جب مجھے یاد آیا کہ میرا آگے ہونا صرف اس بنا پر ہے کہ میں لندن میں بیٹھ کر دہلی کی گھڑی اپنے ہاتھ پر باندھے ہوئے ہوں ۔ اس طرح کی خوش فہمی اس وقت بڑی خطر ناک ہوتی ہے جب کہ وہ فکری اور اعتقادی روپ اختیار کر کے آدمی کے ذہن میں داخل ہو جائے ۔ ایسا آدمی اپنے چھوٹے خیالات کی بنا پر بڑے بڑے اقدامات کر گزرتا ہے ۔ اور جب قانون قدرت کے مطابق وہ ناکامی سے دو چار ہوتا ہے تو وہ اپنے آپ کو درست ثابت کرنے کے لئے مزید غلطی یہ کرتا ہے کہ دوسروں کو اپنی ناکامی کا ذمہ دار قرار دے کر ان کے خلاف احتجاج اور شکایت کا طوفان جاری کر دیتا ہے۔ پہلے اگر اس نے فرضی اقدام کی نادانی کی تھی تو اب وہ فرضی شکایت کی نادانی میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ اس طرح وہ اپنے وقت اور اپنے مسائل کو برباد کرتا رہتا ہے ۔ یہاں تک کہ اپنے آخری انجام کو پہنچ کر قبر میں چلا جاتا ہے تاکہ وہاں تقدیر کے پردہ پر اپنی حقیقی تصویر کو دیکھے ، صرف اس قیمت پر کہ دوبارہ اس کے لئے ٹوٹنے یا تلافی کرنے کا موقع نہ ہو ۔ واپسی کے وقت ایک عجیب لطیفہ پیش آیا ۔ روم سے میں ایئر انڈیا پر سفر کر رہا تھا۔ ایئر انڈیا میں انگریزی کے ساتھ ہندی میں اعلان ہوتا ہے ۔ اناؤنسر نے اعلان کرتے ہوئے کچھ الفاظ کہے تو مجھے سنائی دیا : ”ہمان میں آگ لگنے کا ڈر ہے “ یہ سن کر میں سمجھا کہ شاید کوئی بات گڑ بڑ ہو گئی ہے اور ہوائی جہاز میں آگ لگنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ میں دل ہی دل میں دعا کرنے لگا ۔ مگر دریافت کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ اصل بات یہ تھی کہ میں نے پورا اعلان نہیں سنا ۔ پورا اعلان یہ تھا : ٹائلٹ میں سموکنگ نہ کریں ۔ اس سے ہمان میں آگ لگنے کا ڈر ہے ۔ ہمارے سماج میں پچاس فی صد سے زیادہ باتیں اسی قسم کی ادھوری معلومات کی بنا پر ہوتی ہیں ۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو رائے قائم کرنے سے پہلے تحقیق کی ضرورت محسوس کرتے ہوں ۔ انجمن خدام القرآن (لاہور) ایک خالص غیر سیاسی ادارہ ہے جو ہر سال محاضرات قرآنی (قرآنی سیمنار) کے نام سے لاہور میں اجتماع کرتا ہے ، اس میں ملک اور بیرون ملک کے علما اور دانشور قرآن کے مختلف پہلوؤں پر مقالات پیش کرتے ہیں ۔ سال رواں میں انجمن خدام القرآن کا یہ اجتماع یکم اپریل تا ۵ اپریل ۱۹۸۳ء منعقد ہوا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader