Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

لندن میں چند روز

Urdu book, p. 108

By Maulana Wahiduddin Khan

اس اجتماع میں شرکت کے لئے میرے نام دعوت نامہ آیا تھا۔ انجمن نے اپنے اعلانات میں میرا نام بھی شائع کر دیا تھا۔ مگر افسوس کہ میں اس اجتماع میں شریک نہ ہو سکا۔ میں نے ۲ مارچ ۱۹۸۳ کو نئی دہلی کے پاکستانی سفارت خانہ میں درخواست دی تھی مگر پاکستان کی ’’اسلامی حکومت‘‘ نے مجھے ویزا نہیں دیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ مارچ کے پہلے عشرہ میں ہندوستان میں ناوابستہ ممالک کے سربراہان مملکت کی کانفرنس تھی۔ اس سلسلے میں پاکستان کے صدر جناب ضیا الحق صاحب نئی دہلی آئے ہوئے تھے۔ نئی دہلی کے دورانِ قیام انہوں نے ایک روز پاکستانی سفارت خانہ کا معائنہ کیا۔ وہاں ہندوستانی لوگوں نے بتایا کہ ان کو پاکستان کے سفر کے لئے ویزا حاصل کرنے میں سخت مشکل پیش آتی ہے۔ جناب ضیا الحق صاحب نے حکم دیا کہ آج کی تاریخ تک جتنی درخواستیں آچکی ہیں ان سب کو ویزا جاری کر دیا جائے ۔ چنانچہ پاکستانی سفارت خانہ نے اس دن ۴ گھنٹہ کام کر کے تقریباً دو ہزار درخواستوں کا ویزا جاری کر دیا۔ امید تھی کہ اس مجموعی فیاضی میں ہم کو بھی حصہ ملا ہو گا۔ کیونکہ انہیں تاریخوں میں ہماری درخواست بھی پاکستانی سفارت خانہ میں موجود تھی ۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ۲۲ مارچ کو ہمارا آدمی پاکستانی سفارت خانہ گیا تو وہاں سے یہ جواب ملا کہ ویزا جاری کرنے کے بارہ میں صدرِ پاکستان کا جو حکم تھا وہ ان لوگوں کے لئے تھا جو اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لئے پاکستان جا رہے ہوں ۔ آپ چونکہ کانفرنس میں شرکت کے لئے جارہے ہیں اس لئے آپ کے ویزہ کے لئے اسلام آباد سے منظوری ملنا ضروری ہے۔ ان کو بتایا گیا کہ میں اگلے دن لندن کے لئے روانہ ہو رہا ہوں۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آپ لندن کے پاکستانی سفارت خانہ میں معلوم کر لیں ۔ اسلام آباد سے اجازت نامہ آتے ہی ہم لندن کے پاکستانی سفارت خانہ کو ٹیلیکس کر دیں گے ۔ لندن میں میرے قیام کے آخری دن ۲۸ مارچ کو لندن کے پاکستانی سفارت خانہ میں ٹیلیفون کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ہم کونئی دہلی کے پاکستانی سفارت خانہ سے ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ ویزا نہ ملنے کی وجہ سے میں لاہور کے قرآنی سیمنار میں شریک نہ ہو سکا۔ کیسی عجیب ہوگی وہ اسلامی حکومت جس کو نہ صرف غیر اسلامی پارٹیوں سے خطرہ ہو بلکہ خود اسلام سے بھی خطرہ ہو ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یورپ اور امریکہ کی حکومتوں کو اسلام سے اتنا اندیشہ نہیں جتنا ان مسلم حکومتوں کو ہے جنہوں نے اپنے دعوے کے مطابق اپنے یہاں مکمل اسلام قائم کر رکھا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page