سفر مدینہ
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بعد اعلان ہوگا" جنازہ تیار ہے "یہاں حرم میں اکثر کوئی نہ کوئی جنازہ ہوتا ہے اور نماز کے بعد اس کے لئے نماز کا اعلان ہوتا ہے۔ مگر اعلان کے الفاظ اس قسم کے ہوتے ہیں : الصلوٰۃ علی الرجل يرحمك الله، الصلوٰۃ علی المرأۃ يرحمك الله، الصلوٰۃ علی الطفل يرحمك الله عربی زبان کا یہ انداز اسلام کی دین ہے۔ اسلام کی چھاپ عربی زبان پر اتنی زیادہ ہے کہ وہ اس کے تمام اسالیب سے ظاہر ہوتی ہے۔ ایک دن ہمارے ایک ساتھی نے کمرہ کا ٹیلی وزن کھولا تاکہ سعودی عرب کی خبریں سن سکیں۔ اس وقت اتفاق سے ملک فہد کی ایک تقریر کا کچھ حصہ نشر کیا جارہا تھا۔ ملک فہد کی تقریر میں بار بار اسلامی کلمات ادا ہو رہے تھے۔ مثلاً ایک موقع پر انھوں نے سنجیدہ لہجہ میں کہا : ونرجوا ربنا عز وجل ان يساعدنا ۔۔ ایک روز ایسا ہوا کہ حرم میں کوئی صاحب مل گئے۔ اور ان سے بات کرتے ہوئے میں فرش پر بیٹھ گیا جہاں میں بیٹھا وہ اتفاق سے راستہ تھا۔ ایک عرب جو چاہتے تھے کہ میں راستہ سے ہٹ جاؤں تاکہ لوگوں کو نکلنے میں آسانی ہو، انھوں نے کہا: خل الطریق للناس يرحمك الله عربی زبان کا یہ انداز اس لئے ہے کہ اس کا نشوونما اسلام کی روایات میں ہوا اور اس کے برعکس اردو کا نشوونما بالکل دوسرے حالات میں ہوا۔ چنانچہ مدینہ کے ایک ہندوستانی طالب علم نے ایک ملاقات کے موقع پر رسوایہ انداز میں کہا: الرسالہ کا تو کوئی دفتر نہیں ہوگا۔ وہ جمعیۃ بلڈنگ کے کمرہ میں ہوگا۔ میں نے یہ جملہ سنا تو میری زبان سے نکلا "الرسالہ کا دفتر زمین و آسمان میں ہے"۔ عربوں کے ذہن پر عام طور پر سب سے زیادہ جو مسئلہ سوار ہے وہ یہود کا مسئلہ ہے۔ وہ یہودیوں سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ ایک عرب مصنف کے قلم سے ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے ۔ اليہود وراء کل جريمة (تمام جرائم کے پیچھے یہودی ہیں) ایک تعلیم یافتہ عرب سے بات ہو رہی تھی تو ان کی زبان سے بے اختیار نکلا۔ آج دوبارہ ہم کو ایک صلاح الدین ایوبی کی ضرورت ہے۔ ایک مقام پر مجھے کچھ اہل علم کی مجلس میں اظہار خیال کرنے کا موقع ملا۔ میں نے کہا کہ آجکل دنیا بھر کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایک قسم کے احساس مظلومی Persecution Complex میں مبتلا ہیں۔ کہیں یہودی ان کو اپنے اوپر ظلم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور کہیں غیر یہودی۔ کسی قوم کے لئے نہایت بری علامت ہے۔ قومیں احساس یافت پر اٹھتی ہیں نہ کہ احساس محرومی پر۔ قرن اول میں جو لوگ مکہ سے ہجرت کر کے حبشہ گئے، وہ موجود

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader