سفر مدینہ
Urdu book, p. 156
By Maulana Wahiduddin Khan
لبنان میں ایک چڑیا پائی جاتی ہے جس کو چو ہا خور (Mouse eater) کہتے ہیں۔ یہ باز سے کچھ بڑی ہوتی ہے اور عام طور سے بڑے درختوں کی اوپر کی شاخوں پر بیٹھتی ہے۔ اس چڑیا کے متعلق لبنان میں ایک لطیفہ مشہور ہے۔ صبح کو جب سورج نکلتا ہے تو وہ زمین پر اپنے سایہ کو دیکھتی ہے۔ اس وقت چہوں کہ اس کو اپنا سایہ بہت بڑا نظر آتا ہے ، وہ منصوبہ بناتی ہے کہ آج میں ایک اونٹ کو اپنی خوراک بناؤں گی۔ مگر جیسے جیسے سورج اونچا اٹھتا ہے اس کا سایہ چھوٹا ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ دوپہر کے وقت اس کا سایہ بالکل چھوٹا ہو جاتا ہے۔ اب وہ اس پر قناعت کر لیتی ہے کہ ایک چوہا پکڑ کر اس کو کھا لے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔ فرضی تصور کے تحت اپنے کو "عظیم" سمجھ کر وہ بڑے بڑے منصوبے بناتے ہیں۔ مگر بالآخر ان کے حصہ میں جو چیز آتی ہے وہ صرف ایک " چھوٹا چوہا “ ہے۔ اور کبھی چھوٹا چوہا بھی نہیں۔ یہاں کے عربی اخبارات اب کافی ترقی یافتہ ہو چکے ہیں۔ مثلاً وہ ایسی چیزیں چھاپنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں جو عام طور پر ہمارے اردو اخبارات کی دسترس سے باہر ہوتی ہیں۔ روزنامہ الشرق الاوسط (ریاض) کی اشاعت ۲۸ جنوری ۱۹۸۳ میں ایک مفصل مضمون نظر سے گزر ا جس کا عنوان تھا : وثائق الخارجية البريطانية السرية لعام ۱۹۵۳ - اس میں سابق برطانی وزیر اعظم سرونسٹن چرچل کے ایک خط کا حوالہ ہے جو ۲۲ اپریل ۱۹۵۳ کو لکھا گیا تھا۔ اس خط کے ایک حصہ کا عربی ترجمہ اخبار میں حسب ذیل الفاظ میں درج تھا : ان آخر المعلومات السرية المتوفرة تظهر آخری خفیہ اطلاعات بتاتی ہیں کہ یہ کس قدر خطر ناک مدى خطورة السماح للامور بالاستمرار ہو گا کہ حالات کو بدستور جاری رہنے دیا جائے جبکہ على حالها بينما يستخدم محمد نجيب المانا محمد نجیب (صدر مصر) نازی جرمنوں کو مصری فوج کی نازيين لتعليم الجيش المصري والارهابيين تربیت کے لئے استعمال کر رہے ہیں اور دہشت پسندوں کو تخریب کاری اور گوریلا جنگ کے لئے تیار کر رہے ہیں۔ التخريب وحرب العصابات اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ۳۰ سال پہلے اسرائیل کے سرپرست عربوں سے کس قدر خوف زدہ تھے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader