سفر مدینہ
Urdu book, p. 157
By Maulana Wahiduddin Khan
روزنامہ الریاض ۲۸ صفحات پر شائع ہوتا ہے۔ اور اس کی قیمت ایک ریال ہوتی ہے۔ اس میں ہر قسم کی معلومات اور ہر طرح کے مضامین ہوتے ہیں۔ اسی کے ساتھ تنقیدی خطوط بھی شائع ہوتے ہیں۔ مثلاً الریاض (۱۳ مارچ ۱۹۸۴ء) میں علی الدویکی (جامعہ امام القریٰ) کا ایک خط نظر سے گزرا۔ جس میں انھوں نے اخبارات کے مواد پر تنقید کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ان کو پڑھنے والا ان میں ایسی چیز نہیں پاتا جو اس کی عقل کو اکسائے اور سیدھے راستہ کی رہنمائی کرے (لا یجد القاری فیہا مایثیر عقله وما يهديه الى الصراط المستقيم)۔ عربی زبان کا ٹائپ اور اس سے متعلق مشینیں اعلیٰ ترین ترقی کے مقام پر پہنچ چکی ہیں۔ عربی اخبارات اور جرائد اور کتابوں کو دیکھ کر خواہش ہوتی ہے کہ کاش اردو والوں نے یہی ٹائپ اختیار کر لیا ہوتا تو آج اردو زبان بھی ”ٹائپ“ کے دور میں پہنچ چکی ہوتی جس طرح فارسی زبان ایسا کر کے ٹائپ کے دور میں پہنچ چکی ہے۔ اردو زبان ابھی تک ٹائپ کے دور کے فوائد سے محروم ہے اور غیر ضروری طور پر نستعلیق کا ٹائپ بنانے کے دوڑ میں لگی ہوئی ہے۔ اردو کے لئے اس علیحدہ تشخص کی ضرورت آج تک میری سمجھ میں نہیں آئی۔ جن ملکوں میں لوگوں کے پاس دولت آئی ہے ان کے یہاں عجیب عجیب تفریحات اور تعینات رواج پاگے ہیں۔ مثلاً خاندانی تقریبات کی فلم تیار کرنا۔ جو لوگ زیادہ دولت مند ہیں ان کے پاس خود اپنی ذاتی مشینیں ہوتی ہیں۔ ورنہ ایسی کمپنیاں ہوتی ہیں جو فلمی تصویر کشی (video shooting) کا انتظام کرتی ہیں۔ ایک صاحب نے بتایا کہ پاکستان میں ایک شادی کی فلم پانچ ہزار روپے میں فروخت ہوتی ہے لوگ شادی کی تقریب یا دوسری خاندانی تقریبات کی فلم بنا کر رکھ لیتے ہیں اور پھر تفرج کے طور پر اس کو وی۔ سی۔ آر پر دیکھتے ہیں۔ جدید دنیا کے دوسرے شہروں کی طرح عرب شہروں میں چلتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم ایک تمدنی جنگل میں ہیں۔ جہاں یا تو ٹھہرے ہوئے مکانات ہیں یا دوڑتی ہوئی گاڑیاں ۔ انسان اپنے آپ سے اور اسی کے ساتھ قدرت سے اپنے کو دور محسوس کرنے لگتا ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جدید تمدن نے انسان سے اس کی اپنی ذات کو بھی چھین لیا ہے۔ اور اس کے خدا کو بھی۔ روزنامہ المدینہ (۷ جمادی الثانی ۱۴۰۴ھ) میں دکتور عبد اللہ عمر نسیف کا ایک انٹرویو نظر سے گزرا۔ موصوف اس سے پہلے جامعہ الملك العزيز (جدہ) میں مدیر تھے۔ اب وہ رابطہ عالم اسلامی کے امین عام ہیں۔ انٹرویو لینے ان سے جو سوالات کئے ان میں سے ایک سوال دنیا کے مسلمانوں کے بارہ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader