سفر مدینہ
Urdu book, p. 158
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا۔ ڈاکٹر عبداللہ نصیف نے غم ناک انداز میں کہا: نحن نرى حال المسلمين فی كل مکان ہم ہر مقام کے مسلمانوں کو دیکھتے ہیں۔ ان کا حال وضعهم السيئي۔ ۲ مكانيا تهم الضعيفة فقرہم برا ہے۔ ان کے وسائل بہت کم ہیں۔ ان میں جهلهم۔ انتشار الامراض بينهم غریبی اور جہالت ہے۔ ان کے درمیان بیماریاں پھیلی ہوئی ہیں۔ ۱۸ مارچ کی دوپہر کو ہم وزارت داخلہ کے دفتر میں پہنچے۔ عظیم عمارت کی تیسری منزل کے وسیع ہال سے گزرے تو وہاں بڑے بڑے قالین لپیٹے جا رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ ابھی نماز ظہر ادا کی گئی ہے۔ اسی طرح سعودی مملکت کے تمام دفاتر میں نماز با جماعت ادا کی جاتی ہے اور تمام کارکنان کے لئے لازم ہے کہ وہاں وقت پر آ کر نماز ادا کریں۔ اس کے بعد ہم لوگ نائب وزیر کے دفتر میں داخل ہوئے۔ جدید طرز کے عظیم دفتر میں ایک ایسا شخص بیٹھا ہوا تھا جو بڑا ہر معلوم ہوتا تھا کہ کوئی ’’مولوی‘‘ ہے۔ نائب وزیر موصوف نے انتہائی اکرام کے ساتھ ملاقات کی۔ انھوں نے بتایا کہ ہم آپ کی کتابیں پڑھے ہوئے ہیں اور آپ کے بے حد قدرداں ہیں۔ انھوں نے اسی وقت وزیر محترم سے ملاقات کے لئے ٹیلی فون کیا۔ وزیر موصوف اپنے روزانہ کے معمول کے مطابق نماز ظہر سے فارغ ہو کر عوام کی شکایات سن رہے تھے۔ یہ نماز ظہر کے بعد ان کا روزانہ ایک گھنٹہ کا معمول ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس عوامی ملاقات میں شیخ وحید الدین سے ملنا مناسب نہیں بہتر ہے کہ کل ان سے یا تو وعدہ ملاقات ہو۔ چنانچہ کل کا وقت طے ہوا۔ اگلے دن ۱۹ مارچ کو وزیر داخلہ (سعودی مملکت) سے ملاقات ہوئی۔ یہ شہزادہ نائف بن عبد العزیز ہیں جو موجودہ شاہ فہد کے حقیقی بھائی ہیں۔ جتنا عظیم الشان ان کا دفتر ہے اور ان کے گرد جتنے وسیع انتظامات ہیں اس کے لحاظ سے ہمارا سامنا ایک ایسے شخص سے ہونا چاہئے تھا جو کبر کی تصویر بنا ہوا ہو۔ مگر جب ہم ملے تو ہمارے سامنے ایک ایسا شخص تھا جو سراسر تواضع کا نمونہ دکھائی دیتا تھا۔ گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ شہزادہ مذکور مجھ سے اور میرے کام سے بخوبی واقف ہیں۔ انھوں نے نہایت توجہ سے ہماری دعوتی باتوں کو سنا۔ اور اس پر اپنی طرف سے آیات اور احادیث کا اضافہ کرتے رہے۔ انھوں نے نہ تو اپنے کارناموں کو بیان کیا اور نہ کسی منفر د دشمن کے خلاف جوش و غضب کا مظاہرہ کیا۔ بلکہ یہ کہا کہ ہم سب کو اللہ توفیق دے کہ اتحاد و اتفاق کے ساتھ دین کا کام کر سکیں۔ سعودی عرب کے ذمہ داروں سے ملاقات کے وقت مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اس علاقہ پر خدا کی خاص

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader