سفر مدینہ
Urdu book, p. 159
By Maulana Wahiduddin Khan
نظر ہے۔ شاید یہ خدا کا منصوبہ ہے کہ دین کی تدریس جب دوسری جگہ سے مٹ رہی ہوں اس وقت بھی وہ یہاں موجود رہیں۔ شاید یہی مطلب ہے اس حدیث کا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ان الدین ليارز الى الحجاز كما تاز الحية الى جحرها۔ ہندوستان کے مسلمانوں کے ذہن پر جس طرح یہاں کا اکثریتی فرقہ چھایا ہوا ہے، اسی طرح عربوں کے ذہن پر یہودیوں اور عیسائیوں کا مسئلہ چھایا ہوا ہے۔ روزنامہ المدینہ (۱۰ جمادی الثانی ۱۴۰۲ھ) میں ایک مضمون (صفحہ ۹) نظر سے گزرا۔ مضمون نگار اس میں مسلمانوں کے مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے کہتے ہیں: ولم يكن الاستعمار في العصر الحديث اقل موجودہ زمانہ کا استعمار صلیبی جنگوں سے کم برا نہیں شراسة من الحروب الصليبية۔ فلا فرق بينه ہے۔ اس میں اور صلیبی جنگوں میں کوئی فرق نہیں سوا وبين الحروب الصليبية الادنی اختلاف وسائل کے فرق کے۔ صلیبی جنگوں کا وسیلہ اگر الوسيلة۔ فاذا كانت وسيلة الحرب بالصليبية فوجی تھا تو جدید استعمار کا وسیلہ قوم کے هي القهر والعسكري فان وسيلة الاستعمار الحديث تشخص کو مٹانا اور ا کی ان بنیادی قدروں هي محو شخصية الشعب والقضاء علی مقوماتها کو ختم کرنا ہے جو عقیدہ اور زبان اور روایات الاساسية من عقيدة و لغة وتقاليدا۔ سے تعلق رکھتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صلیبی قو میں اپنے مقدس مقامات کو مسلمانوں سے واپس لینے کے جذبہ کے تحت اٹھی تھیں۔ جب کہ موجودہ زمانہ کا استعماری قوتوں کے زور پر ابھرا۔ مسلمانوں نے چوں کہ دونوں کو ایک سمجھا اس لئے انھوں نے جدید’’ استعمار‘‘ کے مقابلہ میں صرف منفی رد عمل کا مظاہرہ کیا۔ قدیم صلیبی حملوں کی طرح وہ ان کے خلاف لڑنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ اگر وہ ’’ استعمار ‘‘ کی حقیقت کو صحیح طور پر سمجھتے تو ان کو نظر آتا کہ وہ صرف استعمار نہیں ہے بلکہ وہ جدید امکانات کا ہر اول بھی ہے، دعوت اسلامی کے اعتبار سے بھی اور دنیوی ترقی کے اعتبار سے بھی۔ ۱۸ مارچ کو ہم موسسۃ الملک فیصل الخیریہ (ریاض) میں گئے۔ اس کی عمارت اتنی عظیم الشان ہے کہ اس کو دیکھ کر شاہی محل کا گمان ہوتا ہے۔ اس ادارہ کی بہت سی دینی اور تعمیری سرگرمیاں ہیں جن میں سے ایک فیصل انعام بھی ہے جو پانچ قسم کے میدان میں کام کرنے والوں کو امتیاز کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔ اس کے تحت ایک ذیلی ادارہ بھی ہے جس کا نام مرکز الملک فیصل للبحوث والدراسات الاسلاميہ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader