Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

سفر مدینہ

Urdu book, p. 160

By Maulana Wahiduddin Khan

18 مارچ کی شام کوریاض ٹیلیویژن پردو انٹرویو ہوئے۔ دونوں آدھ آدھ گھنٹہ کے تھے۔ جب میں اپنے ساتھی دکتور محمد مانع المجنی (الامين العام المساعد للندوة العالمية للشباب الاسلامی) کے ساتھ ٹیلی وژن سنٹر پر پہنچا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں " ریاض " میں نہیں ہوں بلکہ امریکہ کے کسی انتہائی جدید قسم کے عالیشان دفتریئں ہوں۔ یہ مغرب کا وقت تھا۔ دکتور مانع المجنی نے کہا کہ ہم لوگ پہلے نماز پڑھ لیں۔ اس کے بعد ہم پہلی منزل کے ایک بڑے ہال میں داخل ہوتے تو یہاں مصلیٰ بچھا ہوا تھا اور بالکل مسجد کا منظر تھا۔ امریکی طرز کی عمارت میں اسلامی طرز کا عبادت خانہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ انٹرویو انگریزی میں تھا۔ اس کی صورت یہ تھی کہ دکتور محمد مانع المجنی سوال کرتے تھے اور میں اس کا جواب دیتا تھا۔ پہلا انٹرویو زیادہ تر میرے بارہ میں اور المركز الاسلامی کے بارہ میں اور ہندوستان کے مسلمانوں کے بارہ میں تھا۔ دوسرا انٹرویو زیادہ تر اسلام یتحدی کے بارہ میں اور جدید چیلنج اور اسلام کی طرف سے اس کے جواب کے بارے میں تھا۔ 19 مارچ کی شام کو ہم ریاض سے جدّہ کے لئے روانہ ہوتے۔ یہ جہاز ( ۷ ) جدّہ ہوتے ہوئے لندن جار ہا تھا ۔ جہاز کی روانگی کے ساتھ اعلانات شروع ہوئے ۔ سعودی ایئر لائنز شاید واحد ایئر لائنز ہے جس کے اعلانات بسم اللہ الرحمن الرحیم اور باذن اللہ تعالیٰ جیسے الفاظ کے ساتھ مسافر کے کانوں میں پہنچتے ہیں ۔ اس کے بعد خالص عرب لہجہ میں قرآن کی آیات اور سفر کی دعا سنائی گئی۔ ۲۰ مارچ کی صبح کو ہم جدہ میں تھے ۔ دکتور رعبداللہ عمر نصیف سے ٹیلی فون پر وقت لیا گیا تھا اور انہوں نے مکہ میں ۱۱ بجے دن کا وقت دیا تھا۔ مگر ہم لوگ جدہ میں دیر سے پہنچے اور بظاہر ممکن معلوم نہیں ہوا کہ ہم لوگ وقت پر مکہ پہنچ کر ان سے مل سکیں گے ۔ میں نے جناب حامد الدین صاحب (جامعہ عبد الملک عبدالعزیز) سے کہا تو انھوں نے کہا کہ وہ اس وقت اپنے مکان پر ہوں گے ۔ اس لئے ابھی ان سے ٹیلی فون کر کے دوسرا وقت مقرر کر لیا جائے۔ یہ نماز فجر کے بعد کا وقت تھا۔ حامد الدین صاحب نے ٹیلی فون ملایا تو السلام علیکم کے بعد پہلا جملہ یہ کہا : ڈاکٹر صاحب ، مجھے امید ہے کہ میں نے آپ کو خل نہیں ڈالا ہوگا ) میں نے اپنے دل میں سوچا کہ یہ انداز خطاب تعلیم سے آتا ہے۔ اگر قوم کو تعلیم یافتہ بنا دیا جائے تو قوم کے تمام مسائل اپنے آپ ختم ہو جائیں ۔ کیوں کہ تعلیم قوم کے افراد کو مہذب بھی بناتی ہے اور باشعور بھی ۔ اس کے مطابق شام کو نماز عصر کے بعد دکتور عبد اللہ نصیف سے ان کی قیام گاہ (جدہ) پر ملاقات ہوئی۔ نہایت خندہ پیشانی سے ملے اور اسلامی مرکز کی سرگرمیوں کے بارہ میں معلومات کرتے رہے ۔ انھوں نے خواہش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page