سفر مدینہ
Urdu book, p. 166
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔ نماز ظہر کے فوراً بعد ہم لوگ الشیخ علی الحویتی (رئیس المحکمہ الشرعیہ) کی دعوت پر ان کے مکان کے لئے روانہ ہوئے۔ وہ شارقہ (خاص) سے ۸۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر زید میں رہتے ہیں۔ زید یہاں کا نہایت سرسبز اور شاداب علاقہ ہے۔ یہاں شیخ کا وسیع مکان ہے اور اس سے متعلق دور تک پھیلے ہوئے ان کے باغات ہیں۔ جن میں کھجور کے درخت ہیں اور مختلف قسم کی زراعت ہوتی ہے۔ زید جاتے ہوئے طویل فاصلہ صحرا میں طے کرنا پڑا۔ نہایت عمدہ بنی ہوئی سڑک کے دونوں طرف رتیلے صحرا ہیں جن میں جھاڑیاں نظر آتی ہیں۔ یہ صحرا قدیم ترین زمانہ سے بظاہر ہر بے قیمت پڑے ہوئے تھے۔ مگر ان صحراؤں کے نیچے ایک ایسی چیز دفن تھی جو ہر دوسری چیز کی قیمت ادا کر سکتی تھی چنانچہ اس نے ظاہر ہو کر قیمت ادا کی اور آج انھیں صحراؤں میں شاندار شہر آباد نظر آتے ہیں۔ صحرا میں دور آگ کے بہت بڑے بڑے شعلے جلتے ہوئے نظر آئے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ گیس کے فضلات ہیں جو جل رہے ہیں۔ گیس کے یہ فضلات انتہائی قیمتی ہیں۔ ان سے ہزاروں چیزیں بنتی ہیں ۔ انھیں سے وہ کو کنگ گیس بنتی ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے ہندوستان میں ایک آدمی کو کئی کئی سال تک لائن لگانی پڑتی ہے۔ مگر خلیجی ممالک میں اکثر قیمتی چیز پھینک دی جاتی ہے اور جلتی رہتی ہے۔ اگر ان کو استعمال میں لایا جائے (جیسا کہ ترقی یافتہ ممالک ان کو استعمال میں لا رہے ہیں تو وہ دولت کا عظیم الشان خزانہ بن جائے۔ ۲۳ مارچ ۱۹۸۴ء کو شارقہ میں ایک بڑے شیخ کے یہاں ایک خصوصی نشست تھی۔ اتنے میں ہندوستان کے ایک مسلم قائد وسیع کمرہ میں داخل ہوئے۔ ملاقات کے بعد انھوں نے کچھ چھپے ہوئے کاغذات عرب شیوخ کے درمیان تقسیم کرنے شروع کئے۔ میں نے دیکھا تو اس میں ہندوستان کے مسلمانوں پر حکومت کے ”مظالم“ کے خلاف چیخ پکار تھی۔ گفتگو کے دوران قائد موصوف نے کہا : ” ہندوستان میں اسلام آزاد نہیں ہے۔ مسجد کے اندر بھی سجدہ کی آزادی نہیں “ یہ سن کر ایک عرب شیخ نے کہا : ہم نے کئی بار ہندوستان کی زیارت کی ہے۔ اور وہاں مختلف مقامات پر مسجدوں کے اندر نمازیں پڑھی ہیں۔ ہم نے تو نہیں دیکھا کہ وہاں مسجدوں میں سجدہ کرنے کی ” آزادی نہ ہو “ اس موقع پر قائد موصوف نے ایک ” پریس اسٹیٹمنٹ “ تقسیم کیا جس کے چھ نکات میں سے ایک نکتہ یہ تھا : A urinal was constructed at the tomb of famous Urdu poet Zauq ۲۴ مارچ ۱۹۸۴ء کی صبح کو ہم برٹش ایرویز (AM) کے ذریعہ دہلی واپس پہنچے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader