Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

سفر مدینہ

Urdu book, p. 167

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک سفر المعهد العلی للفکر الاسلامی (International Institute of Islamic Thought مختلف ملکوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اصحاب کا ایک ادارہ ہے جس کا مرکزی دفتر واشنگٹن میں ہے ۔ اس ادارہ کے ٹرسٹیوں کا ایک بورڈ ہے جس میں حسب ذیل افراد شامل ہیں : ڈاکٹر عبدالحمید سلیمان ، صدر ڈاکٹر اسماعیل راجی الفاروقی، ڈائرکٹر ڈاکٹر طہ جابر العلوانی ممبر ڈاکٹر جمال البر زبنجی ممبر ڈاکٹر انور ابراہیم (وزیر زراعت ملائشیا) ممبر اس ادارہ کا مقصد اس کے الفاظ میں اسلامیتہ المعرفة (Islamization of knowledge) ہے ۔ اس کے تحت اس کا تیسرا انٹرنیشنل سیمنار جولائی ۴۱۹۸ میں کوالالمپور میں ہوا۔ اس سیمنار کو منظم کرتے والا مذکورہ ادارہ تھا۔ اور اس کی میزبانی کے فرائض حکومت ملائشیا کی وزارت ثقافت نے انجام دئے۔ راقم الحروف کو اس سیمنار میں مقالہ پڑھنے کے لئے بلایا گیا تھا۔ اس سلسلے میں کو الالمپور کا سفر ہوا۔ اس اجتماع میں ملائشیا کے علاوہ دوسرے مختلف ملکوں کے تقریباً پچاس افراد شریک ہوئے۔ یہ سب کے سب اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ تھے ۔ اجتماع کی کارروائی انگریزی زبان میں ہوئی ۔ بظاہر اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقہ کا کوئی بین اقوامی اجتماع ہو تو اس کے شرکاء کی اکثریت کے لئے ، کم از کم اب تک، سب سے زیادہ قابل فہم زبان انگریزی ہی ہوتی ہے۔ میرے سفر کا راستہ یہ تھا : دہلی۔ بینکاك ، کو الالمپور ۔ بینکاك۔ دہلی۔ ۱۳ جولائی ۱۹۸۴ کو واشنگٹن (امریکہ) میں ٹکٹ خریدا گیا ۔ اور پورے سفر کا رزرویشن ” اوکے “ ہو کر ۱۴ جولائی کو تھائی ایرویز (نئی دہلی) کی معرفت مجھے اپنے دفتر میں وصول ہو گیا۔ اس کے بعد ۲۳ جولائی کو جب میں دہلی سے روانہ ہوا تو اسی دن دوپہر کے وقت میں کو الالمپور پہنچ چکا تھا۔ موجودہ زمانہ میں دور دراز ملکوں میں سفر کتنا زیادہ آسان ہو گیا ہے ۔ خدا نے یہ آسانیاں اس لئے پیدا کی تھیں کہ پیغمبر آخر الزماں کے امتی ان کو استعمال کر کے خدا کے دین کی دعوت ساری دنیا میں پہنچا دیں۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے ان سہولیات کو اپنی بے نتیجہ سیاست

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page