Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

سفر مدینہ

Urdu book, p. 168

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لئے تو خوب استعمال کیا مگر وہ اسے اللہ کے پیغام کو اہل عالم تک پہنچانے کے لئے استعمال نہ کر سکے۔ یہ عملی غفلت اب فکری غفلت تک جا پہنچی ہے۔ چنانچہ اب یہ حال ہے کہ اگر ان کو اس فریضہ کی طرف توجہ دلائی جائے تو کوئی کہے گا کہ تم مسلمانوں کو جہاد کے محاذ سے ہٹانا چاہتے ہو۔ کسی کا جواب یہ ہوگا کہ ابھی تو مسلمانوں کا اپنا وجود خطرہ میں ہے پھر وہ کوئی دوسرا کام کس طرح کر سکتے ہیں۔ کسی کو کہنے کے لئے یہ الفاظ مل جائیں گے کہ پہلے مسلمانوں کی اصلاح کر لیجیے اس کے بعد دوسروں کی اصلاح کی فکر کیجئے۔ قدیم زمانہ میں مسلمانوں کے اندر دعوت کا جذبہ تھا۔ اس وقت ایک ملک سے دوسرے ملک میں پہنچنے کے لئے مہینوں کا وقت درکار ہوتا تھا۔ پھر بھی وہ سمندروں کو پار کر کے دور دراز ملکوں میں پہنچے اور مشرک ملکوں کو موحد ملک بنا دیا۔ آج جوں کہ مسلمانوں کے اندر سے دعوت کا جذبہ نکل گیا ہے اس لئے وہ طرح طرح کے عذر لنگ تراش کر کے اپنے آپ کو اس سے فارغ کئے ہوتے ہیں۔ الرسالہ پڑھنے والوں کو ” ملیشیا“ سے میری دلچسپی کار از جاننا مشکل نہیں۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ ملیشیا کا علاقہ اسلام کی دعوتی قوت کی ایک حیرت انگیز مثال ہے۔ اس علاقہ میں اسلام صرف اپنی دعوتی قوت کے ذریعہ پھیلا۔ یہاں کوئی بھی عسکری طاقت استعمال نہیں کی گئی۔ بلکہ تاریخ بتاتی ہے کہ اس علاقہ میں اسلام کی اشاعت مسلم تاجروں کے ذریعہ اس وقت ہوئی جب کہ اسلام کی عسکری قوت بالکل برباد ہو چکی تھی۔ ڈاکٹر آرنلڈ نے بجاطور پر لکھا ہے کہ اگرچہ بعد کے سالوں میں اسلام کی عظیم سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی اور اس کی سیاسی طاقت ختم ہوگئی تاہم اس کی روحانی فتوحات کسی وقفہ کے بغیر جاری رہیں۔ جب منگول قبائل نے ۱۲۵۸ء میں بغداد کو تباہ کر دیا اور عباسی مملکت کو خون میں ڈبو دیا۔ اور حبیب مسلمان ۱۲۳۶ء میں قرطبہ سے فرڈینینڈ کے ہاتھوں نکال دئے گئے اور غرناطہ جو اسپین میں اسلام کا آخری مرکز تھا اس نے عیسائی بادشاہ کو خراج ادا کیا تو عین اس وقت اسلام سماترا میں داخل ہو چکا تھا اور جزائر ملایا میں اپنی فتوحات کا آغاز کر رہا تھا۔ اپنے سیاسی انحطاط کے زمانہ میں بھی اسلام نے شاندار روحانی ترقی حاصل کی ہے : Although in after years this great empire was split up and the political power of Islam diminished, still its spiritual conquests went on unin- terruptedly. When the Mongol hordes sacked Baghdad (A.D. 1258) and drowned in blood the faded glory of the Abbasid dynasty — when the Muslims were expelled from Cordova by Ferdinand of Leon and Castile (A.D. 1236), and Granada, the last stronghold of Islam in Spain, paid tribute to the Christian king — Islam had just gained a footing in the island of Sumatra and was just about to commence its triumphant progress through the Island of the Malay Archipelago. In the hours of its political degradation, Islam has achieved some of its most brilliant spiritual conquests. Arnold, The Preaching of Islam, Lahore 1976 p. 2.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page