Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

سفر مدینہ

Urdu book, p. 169

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر آپ اسپین اور بغدادہ کا الگ الگ مطالعہ کریں اور ملائشیا کا الگ تو آپ کو اس میں کوئی سبق نہیں ملے گا۔ مگر جب دونوں کو ملا کر دیکھا جائے تو وہ عظیم سبق برآمد ہوتا ہے جس کی طرف اوپر کے اقتباس میں اشارہ کیا گیا ہے۔ جب میں ملائشیا کی طرف جا رہا تھا تو مجھے ایسا معلوم ہوا کہ میں کسی ملک کی طرف نہیں جا رہا ہوں بلکہ اسلام کی تاریخ کی طرف جا رہا ہوں۔ ایک ایسی تاریخ جو اہل اسلام کو یہ سبق دیتی ہے کہ اگر تمھارے پاس مادی اور عسکری طاقت موجود نہ ہو تب بھی تمھارے لئے مایوسی کا کوئی سوال نہیں۔ تم اپنی فکری اور روحانی طاقت کو استعمال کرکے از سر نو اپنے لئے ایک نئی دنیا بنا سکتے ہو۔ ۲۳ جولائی سنہ ۱۹۸۴ کو میں کو الالمپور کے لئے روانہ ہوا۔ روانگی کے وقت میرا جہاز از رات کو 2 بچے تھا۔ اسی طرح جب میں کو الالمپور سے واپس ہوا تو میں دوبارہ دہلی میں رات کے وقت اترا۔ جو لوگ باہر کی دنیا میں سفر کرتے رہتے ہیں انھیں اندازہ ہے کہ اس طرح غیر موزوں (odd) اوقات میں سفر کرنے کا معاملہ زیادہ تر دہلی میں پیش آتا ہے۔ یہ دراصل ملک کی پس ماندگی کی قیمت ہے۔ دہلی کے ایک انگریزی اخبار نے پالام ہوائی اڈہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا تھا؛ Palam airport's main problem is overcrowding during the night hours. There is a lull all day. This happens because many countries do not allow night-landings in order to eliminate noise. India cannot afford to follow their example because it would lose much of the traffic it gets. There is, therefore, bunching of aircraft leading to congestion. پالام ایئر پورٹ کا بنیادی مسئلہ رات کے اوقات میں غیر معمولی بھیڑ ہے۔ یہاں سارے دن سناٹا رہتا ہے۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ اکثر ممالک شور کو ختم کرنے کے لئے رات کو اپنے یہاں جہاز اترنے کی اجازت نہیں دیتے ۔ ہندوستان ایسی پابندی نہیں لگا سکتا۔ کیوں کہ اگر وہ ایسا کرے تو وہ اپنے اکثر مسافروں کو کھو دے گا۔ اس بنا پر یہاں رات کو جہازوں کی کثرت رہتی ہے جس کی وجہ سے یہاں رات کے اوقات میں بھیڑ بھاڑ رہتی ہے۔ اگر آپ قومی سطح پر پس ماندہ ہیں تو موجودہ مقابلہ کی دنیا میں بہر حال آپ کو اس کی قیمت دینی پڑے گی۔ اسباب کی اس دنیا میں اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ ۲۳ جولائی سنہ ۱۹۸۴ کی رات کو ۲ بجے میں تھائی ایئر ویز ( فلائٹ نمبر ۳۰۴) کے ذریعہ دہلی سے روانہ ہوا۔ فرسٹ کلاس کے مسافروں کے لئے ہوائی کمپنیوں کا معاملہ اس قدر خصوصی ہوتا ہے کہ ان کے لئے بورڈنگ کارڈ بھی زیادہ شاندار کاغذ پر چھاپے جاتے ہیں۔ یہاں ہر چیز کا معیار اعلیٰ ہوتا ہے۔ ہر چیز

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page