سفر مدینہ
Urdu book, p. 170
By Maulana Wahiduddin Khan
کا انداز عام اکانومی کلاس سے مختلف رکھا جاتا ہے۔ خصوصی تحفے بھی دئے جاتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ دنیا کا موجودہ نظام بھی انسان کو کس قدر دھوکے میں ڈالنے والا ہے۔ دنیا میں یہ تمام فرق پیسے کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ یہاں صرف پیسے کی زیادتی اور کمی پر ایک شخص کو اونچا درجہ مل جاتا ہے اور دوسرے کو نیچا۔ اس سے انسان اس غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے کہ پیسہ ہی اس دنیا میں سب کچھ ہے۔ وہ اپنی پوری زندگی اور ساری طاقت صرف پیسہ کو حاصل کرنے میں لگا دیتا ہے۔ وہ اسی میں مصروف رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آ جاتی ہے۔ اس وقت اچانک اس کو معلوم ہوتا ہے کہ وسیع تر زندگی کے اعتبار سے یہاں پیسے کی کوئی قیمت نہ تھی۔ یہ سوچ کر بے اختیار دل بھر آیا۔ میری زبان سے نکلا: کاش آج کے انسان کو بتایا جا سکے کہ زندگی کا اصل مسئلہ کیا ہے۔ اور اس کو چھوڑ کر وہ کس چیز کو اپنا مسئلہ بنائے ہوئے ہے۔ یہی اصل دعوتی کام ہے۔ مگر یہی وہ کام ہے جس کو کرنے والا آج کوئی نہیں۔ ایک دنیا وہ ہے جس کا نام ”دہلی“ ہے۔ دوسری دنیا وہ ہے جس کا نام ”کوالالمپور“ ہے۔ دونوں ہمارے معلوم دائرہ کے مقامات ہیں۔ ایک آدمی دہلی سے کو الالمپور جا رہا ہو یا کو الالمپور سے دہلی آ رہا ہو تو وہ جانتا ہے کہ وہ کہاں سے کہاں جا رہا ہے۔ اس کو اپنے آغاز اور اپنے انجام کا پورا یقین ہوتا ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ دنیا اور آخرت کا بھی ہے۔ ہر آدمی ایک مسافر ہے۔ ہر آدمی موجودہ دنیا سے آخرت کی دنیا کی طرف جا رہا ہے۔ وہ ایک نظام سے دوسرے نظام کی طرف سفر کر رہا ہے۔ مگر کوئی نہیں جس کو اس واقعہ کا سچا یقین ہو۔ جو دوسرے سفر کا بھی اسی طرح زندہ احساس رکھتا ہو جس طرح وہ اپنے پہلے سفر کا زندہ احساس رکھتا ہے۔ بینکاک سے کو الالمپور جانے کے لئے دوسرا جہاز پکڑنا تھا۔ بینکاک کا ہوائی اڈہ دہلی کے ہوائی اڈہ سے زیادہ باقاعدہ اور زیادہ منظم نظر آیا۔ میں کاؤنٹر پر گیا تاکہ تھائی ائیرویز کی اگلی فلائٹ (۴۱۵) کے لئے بورڈنگ کارڈ حاصل کروں۔ کاؤنٹر پر کھڑی ہوئی خاتون نے میرا ٹکٹ لیا اور کمپیوٹر کی چند گنتیوں پر انگلی ماری اور اچانک میرے ٹکٹ اور رزرویشن کی پوری تفصیل اسکرین پر آ گئی۔ موجودہ زمانہ میں کمپیوٹر نے جو انقلاب برپا کیا ہے یہ اس کی ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ کمپیوٹر گویا ایک قسم کا مشین ”حافظہ“ ہے۔ آپ اس کے حافظہ میں بے شمار معلومات ڈال سکتے ہیں اور پھر ضرورت کے وقت بٹن دبانے پر ایک لمحہ میں وہ ساری معلومات سکرین پر نمایاں ہو کر آپ کے سامنے آجائیں گی۔ دوران پرواز ایئر ہاسٹس ناشتہ کے لئے مختلف قسم کا سامان میز پر رکھ کر لے آئی۔ ان میں سے مجھے اپنے لئے انتخاب کرنا تھا۔ میں نے دیکھا تو اس میں زیادہ تر گوشت کی چیزیں تھیں یا مغربی طرز کے کھانے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader