سفر مدینہ
Urdu book, p. 171
By Maulana Wahiduddin Khan
گوشت کے ساتھ حلال کا مسئلہ تھا اور مغربی طرز کے کھانے میرے ذوق کے مطابق نہیں ۔ میز کے ایک طرف چاول نظر آیا ۔ میں نے کہا یہ چاول دے دو ۔ ائیر ہاسٹس نے فوراً کہا : It is ham-rice sir, do you take ham? میں نے کہا کہ نہیں۔ پھر میں نے سوچا کہ ہیم ( لحم خنزیر ) کی اس دنیا میں اگر چاول بھی اس سے محفوظ نہیں تو آخر کیا چیز ہے جس کو یہاں کھایا جائے۔ چوں کہ بنکاک میں جہاز بدلتا ہے اس لئے جاتے اور آتے ہوئے کچھ اوقات بنکاک میں گزرے اس طرح تھائی لینڈ کو کسی قدر دیکھنے اور جاننے کا موقع ملا۔ تھائی لینڈ کی کل آبادی تقریباً ۴۵ ملین ہے۔ اس میں ۹۰ فی صد بدھسٹ ہیں۔ مسلمانوں کی تعداد تقریباً دو ملین ( ۲۰ لاکھ ) ہے۔ وہ زیادہ تر تھائی لینڈ کے جنوبی حصہ میں بستے ہیں۔ یعنی لمبائی میں پھیلے ہوئے ملک کا وہ حصہ جو ملیشیا سے ملا ہوا ہے ۔ یہ لوگ تھائی اور ملائی زبان بولتے ہیں۔ بنکاک سے مسلمانوں کے دو ماہنامے نکلتے ہیں۔ ایک الجہاد ، دوسرا رابطہ ۔ دونوں تھائی زبان میں ہیں۔ " الجہاد " کے ایڈیٹر سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ دونوں ماہناموں کی تعداد اشاعت پانچ پانچ ہزار ہے۔ تھائی لینڈ میں تقریباً دو ہزار مسجدیں ہیں۔ یہاں کوئی بڑی اسلامی درس گاہ نہیں۔ البتہ چھوٹے چھوٹے مدرسے سیکڑوں کی تعداد میں ہیں۔ جنوبی تھائی لینڈ کے مسلمان ملائی زبان بولتے ہیں۔ شمالی تھائی لینڈ کے مسلمانوں کی زبان تھائی ہے۔ مگر مسلمانوں کا رسالہ یا کتا بیں صرف تھائی زبان میں چھپتے ہیں۔ کیوں کہ تھائی لینڈ کے قانون کے مطابق صرف تین زبانوں میں کوئی چیز چھاپی جاسکتی ہے ۔ تھائی ، انگریزی ، چینی ۔ تاہم ملشیا سے ملائی زبان کی کتا بیں اور رسالے آتے رہتے ہیں۔ تھائی زبان کا رسم الخط ناگری سے ملتا جلتا ہے۔ تھائی قوم کی اصل چینی ہے۔ وہ غالباً بارھویں صدی عیسوی میں جنوبی چین سے آکر یہاں آباد ہوئے ۔ یہاں عام طور پر تھائی زبان بولی جاتی ہے۔ دوسرے نمبر پر انگریزی زبان رائج ہے۔ آبادی کا ۷۰ فی صد حصہ چاول کی کاشت کرتا ہے ۔ تھائی لینڈ دیہاتوں اور قصبات کا ایک ملک ہے۔ اس کا واحد بڑا شہر بنکاک ہے جو بین الاقوامی گزرگاہ ہونے کی بنا پر کافی مشہور ہے۔ یہاں کا پہلا بادشاہ مینگرائی اعظم تھا۔ مختصر حکومت کے بعد ۱۳۲۵ء میں اس کا خاتمہ سادہ طور پر اس طرح ہوا کہ اس کو گھڑیال نے نگل لیا۔ تھائی لینڈ کے لفظی معنی ہیں " آزادی کا ملک " یہاں کی زندگی اور رسم و رواج پر سب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader