Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

سفر مدینہ

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

سے زیادہ بدھ مت کا اثر ہے جو بنیادی طور پر ایک روادار مذہب ہے۔ مزید یہ کہ تھائی لینڈ جنوب مشرقی ایشیا کا واحد ملک ہے جو نو آبادیاتی نظام کی ماتحتی سے بچارہا ہے۔ اس بناء پر یہاں غیر ملکی تہذیب کے خلاف نفرت اور تعصب کی وہ فضا نہیں ہے جو دوسرے ملکوں میں پائی جاتی ہے۔ ان اسباب نے تھائی لینڈ میں دعوت و تبلیغ کا میدان بہت بڑے پیمانہ پر کھول دیا ہے۔ مگر اس سے صرف عیسائی مبلغین فائدہ اٹھارہے ہیں۔ مسلمانوں نے ابھی تک یہاں دعوت و تبلیغ کے لئے کوئی قابل ذکر نظام نہیں بنایا۔ بینگ کاک سے کو الا لمپور جاتے راستے میں انگریزی اخبار ، بینگ کاک پوسٹ (۲۳ جولائی ۱۹۸۴) پڑھنے کو ملا۔ عجیب اتفاق کہ اس اخبار کے صفحہ اول کی پہلی سرخی جہاز کی تباہی (Plane crash) کی تھی۔ دو انجن کا یہ چارٹرڈ جہاز تھائی حکومت کے اعلی افسروں کو لئے ہوئے اُڑ رہا تھا۔ وہ ہوائی اڈہ سے صرف ۱۲ کلومیٹر کے فاصلہ پر تھا کہ کنٹرول ٹاور کو اس کا پیغام ملا کہ ہمارے انجن میں خرابی آگئی ہے اور مجبوراً، ہم دھان کے کھیت میں جہاز اتاررہے ہیں۔ اس کے بعد اچانک پیغام آنا بند ہوگیا۔ جہاز کھیت میں اتر رہاتھا کہ ٹکڑا کر تباہ ہوگیا۔ ایک کسان جو اس منظر کو دیکھ رہا تھا اس نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ جہاز ڈگمگاتے ہوئے نیچے آ رہا ہے۔ اس کے بعد یکایک زور دار دھماکہ (Loud explosion) ہوا اور جہاز ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ خبریں بتایا گیا تھا کہ مرنے والوں میں تھائی لینڈ کے منرل ریسورسز ڈ پارٹمنٹ کے ڈائرکٹر بھی شامل تھے ۔ کچھ لوگ شدید زخمی ہو کر اسپتال پہنچائے گئے اور وہاں جا کر مرگئے۔ یہ خبریں نے ایسی حالت میں پڑھی کہ میں خود بھی ایک جہاز میں بیٹھا ہوا فضا میں اُڑ رہا تھا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے حادثہ خود میرے ساتھ گزر رہا ہو۔ زندگی اور موت ایک دوسرے سے بالکل قریب نظر آئے۔ زمینی سواری میں کوئی خرابی آجائے تو اس کو ٹھہر اکرد درست کیا جا سکتا ہے ۔ مگر اسی طرح آپ ہوائی جہاز کو فضا میں نہیں ٹھہرا سکتے ۔ یہی وجہ ہے کہ جہاز میں کوئی خرابی آنے کا مطلب ہمیشہ حادثہ ہوتا ہے جہاز اپنے مسافروں کے لئے گویا اڑتی ہوئی قبر ہے۔ کسی کی یہ قبر فضا میں بن جاتی ہے اور کسی کو جہاز اڑا کر تیزی سے وہاں پہنچادیتا ہے جہاں اس کو عام قبر میں دفن کیا جاسکے۔ انسان کتنا زیادہ موت سے قریب ہے مگر وہ کتنا زیادہ اپنے آپ کو موت سے دور سمجھتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page