Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

سفر مدینہ

Urdu book, p. 173

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔ کوالالمپور میں میرا قیام پہلے دن ہالی ڈے ان (Holiday Inn) میں کمرہ نمبر ۲۱۹ میں رہا۔ مجھے یہاں نماز پڑھنے کی ضرورت ہوئی۔ اس وقت اتفاق سے کوئی قبلہ کا رخ بتانے والا نہ تھا۔ تردد ہوا کہ کس طرف رخ کر کے نماز پڑھی جائے۔ اچانک میری نظر چھت کی طرف گئی تو چھت پر تیر کی شکل کا ایک کاغذ یا پلاسٹک کا ٹکڑا چپکایا ہوا تھا جس پر انگریزی میں لکھا ہوا تھا ” قبلہ “۔ یہ تیر بتا رہا تھا کہ قبلہ کی سمت کدھر ہے ۔ چنانچہ اطمینان سے اس رخ پر نماز ادا کی۔ تیر نے موجودہ زمانہ میں ہتھیار کی حیثیت سے اپنی قیمت کھو دی ہے مگر رخ کے نشان کے لئے اب بھی ساری دنیا میں اس کا کوئی بدل نہیں۔ ہوائی اڈہ سے ہوٹل آتے ہوئے جب ہم لوگ بازار سے گزرے تو سڑک کے دونوں طرف کی بڑی بڑی دکانوں پر ایسے سائن بورڈ لگے ہوئے تھے جن پر انگریزی کے ساتھ چینی زبان میں بھی دکان کا نام لکھا گیا تھا۔ میلوں تک یہی منظر تھا۔ میرے ساتھی ( وزارت ثقافت کے سکریٹری ) نے بتایا کہ جن جن بورڈوں پر چینی حروف میں لکھا ہوا ہے وہ چینیوں کی دکانیں ہیں۔ میں نے دیکھا تو اکثر بڑی دکانوں پر چینی حروف میں لکھا ہوا تھا ۔ ملیشا چھوٹی چھوٹی مسلم سلطنتوں کا مجموعہ ہے۔ اب بھی یہ تمام سلطان موجود ہیں مگر عملاً پارلیمنٹ کے ہاتھ میں سارا اقتدار ہے۔ ۱۹ ویں صدی میں ملیشا ( ملایا ) برطانی اقتدار کے ماتحت آگیا۔ برطانیہ نے اپنے دور اقتدار میں کثرت سے چینی اور ہندوستانی مزدور ملیشیا میں در آمد کئے۔ یہ لوگ یہاں اس لئے لائے گئے تھے کہ ٹن کی کانوں اور ربڑ کے باغوں میں کام کر سکیں جن کے مالک انگریز تھے ۔ ٹن اور ربڑ اب بھی ملیشیا کے بنیادی ذرائع آمدنی ہیں۔ چینی دھیرے دھیرے یہاں کی تجارتوں میں داخل ہونا شروع ہوتے۔ یہاں تک کہ وہ ملیشیا کی اقتصادیات پر قابض ہو گئے۔ ملائی قوم زیادہ تر دیہاتوں میں آباد رہی ۔ اور چینی شہروں پر چھا گئے ۔ ملایا نے ۱۹۵۷ میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ اس درمیان میں سنگاپور میں چینیوں کی اکثریت ہو چکی تھی۔ ابتداً اڑ سنگاپور فیڈریشن کے ماتحت ملیشیا سے وابستہ رہا ۔ ۱۹۶۵ میں اس نے کامل آزادی حاصل کر لی۔ ۲۲ جولائی کو دو پہر بعد ہمیں ” انٹر نیشنل ہاؤس “ میں لے جایا گیا ۔ اور آئندہ یہیں پر کمرہ نمبر ۱۳۰ میں قیام رہا۔ انٹر نیشنل ہاؤس ایک بین اقوامی ترقیاتی مرکز

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page