Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

سفر مدینہ

Urdu book, p. 174

By Maulana Wahiduddin Khan

(Asia and Pacific Development Centre) کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ ہالی ڈے سے ان اگرچہ یہاں کا بڑا ہوٹل ہے مگر وہ شہر کے اندر واقع ہے۔ اس کے برعکس انٹرنیشنل ہاؤس شہر کے باہر پہاڑی کے دامن میں قائم کیا گیا ہے۔ یہاں چاروں طرف قدرت کے مناظر ہیں۔ نیز یہاں ہوٹل کے ماحول کے بجائے "علمی" ماحول ہے۔ یہاں ایک بڑی لائبریری بھی ہے۔ یہ دوسری جگہ مجھ کو زیادہ پسند آئی۔ ہالی ڈے سے ان کی ایک سجی ہوئی نشست گاہ کے دروازہ پر جلی حروف میں یہ الفاظ لکھے ہوئے نظر آئے (Rama Rama) اس سے مجھے شبہ ہوا کہ یہ شاید کوئی ہندو ہوٹل ہے۔ بعد کو میں نے ایک ملیشیائی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس کے معنی ملائی زبان میں تتلی کے ہیں ــــ تحقیق سے پہلے ایک چیز کچھ نظر آتی ہے اور تحقیق کے بعد کچھ بن جاتی ہے۔ سیمنار کی طرف سے ہم کو جو بیگ دیا گیا تھا ، میں نے ایک ذمہ دار سے پوچھا کہ یہ ملیشیا کا بنا ہوا ہے یا باہر کے کسی ملک کا۔ انھوں نے بتایا کہ ملیشیا کا۔ میں نے دوبارہ پوچھا : مسلم کارخانہ کا یا چینی کارخانہ کا۔ انھوں نے مسکرا کر کہا " اگرچہ مجھے تعین کے ساتھ معلوم نہیں ہے۔ مگر یقین ہے کہ وہ چینی کارخانہ کا ہوگا۔ کیوں کہ میرے علم کے مطابق کو الالمپور میں مسلمانوں کا کوئی ایسا کارخانہ نہیں ہے جو ایسا بیگ سلائی کرسکے۔“ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملیشیا کی موجودہ صورت حال کیا ہے۔ یہاں مسلمان ۵۰ فی صد ہیں۔ حکومت پر ان کا قبضہ ہے۔ مگر تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں کو زیادہ تر چینی کنٹرول کرتے ہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں کو شکایت ہے کہ ان کی مزدوری سے فائدہ اٹھاکر اکثریت ان کا استغلال کررہی ہے۔ پھر ملیشیا کے بارہ میں وہ کیا کہیں گے جہاں حکومت ان کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے باوجود یہاں کی دولت کا بہت بڑا حصہ چینی اقلیت کے قبضہ میں ہے۔ حتیٰ کہ وہ اپنی اقتصادی قوت کی بنا پر براہ راست یا بالواسطہ طور پر دوسرے شعبوں پر بھی گہرے طور پر انداز ہوتے ہیں۔ عجیب اتفاق ہے کہ جس دن میں کو الالمپور پہنچا ٹھیک اسی دن مسٹر یاسر عرفات بھی اپنے وفد کے ساتھ یہاں آئے۔ وہ اپنے مقرر پروگرام سے ۵ گھنٹے لیٹ کو الالمپور پہنچے۔ ۲۵ جولائی کا مقامی اخبار ٹائمس (New Straits Times) یاسر عرفات کی خبروں اور تصویروں سے بھرا ہوا تھا۔ یہاں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page