سفر مدینہ
Urdu book, p. 175
By Maulana Wahiduddin Khan
مشہور اسٹیڈیم نگارا (Stadium Negara) میں ان کی تقریر ہوئی تو وسیع اسٹیڈیم انسانوں سے آخری حد تک بھرا ہوا تھا۔ ان کی تقریر کا خلاصہ اخبار کی اس سرخی میں تھا: Our struggle will only end with victory (ہماری جد وجہد صرف فتح پر ختم ہوگی) ، اخباری اطلاع کے مطابق انھوں نے عربی میں تقریر کی جس کا ساتھ ساتھ انگریزی میں ترجمہ کیا جارہا تھا۔ انھوں نے فلسطین کے موجودہ مسئلہ کی تمام تر ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر ڈال دی۔ مگر سوال یہ ہے کہ قرآن میں صریح وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل کفر کو اللہ ایمان پر ہرگز غلبہ کا موقع نہیں دے گا۔ لن يجعل الله للكافرين على المومنين سبيلا ) پھر یہ کیسے ممکن ہوا کہ امریکہ اور اسرائیل تقریباً ہم سال سے اس آیت کریمہ کی تردید کر رہے ہیں اور خدا کی نصرت ظاہر نہیں ہوتی۔ جہاں تک راقم الحروف کا خیال ہے ، فلسطین کا مسئلہ مسلمانوں کی دینی غفلت کا نتیجہ ہے۔ خاتم النبیین کے ظہور سے پہلے فلسطین بنی اسرائیل کیلئے خدائی علامت تھا۔ جب خدا ان سے خوش ہوتا تو ان کو فلسطین پر قبضہ دے دیتا اور جب خدا ان سے ناراض ہوتا تو فلسطین کو ان کے دشمنوں کے حوالے کر دیتا۔ یہی معاملہ اب مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ فلسطین ایک حسی علامت ہے جس سے مسلمان اپنی اسلامیت کو ناپ سکتے ہیں۔ خدا جب مسلمانوں سے راضی رہا تو اس نے فلسطین کو ان کے قبضہ میں دے دیا۔ اور جب وہ ان سے ناراض ہوا تو اس کو ان سے چھین کر ان کے دشمنوں کے حوالے کر دیا۔ ماضی میں بھی ایسا ہوچکے ہے اور آج بھی ایسا ہورہا ہے۔ اس لئے امریکہ اور اسرائیل کو برا بھلا کہنے کے بجائے ہمیں اپنا احتساب کرنا چاہئے۔ اپنی کمزوریوں کو دور کر کے اپنے آپ کو اس کا مستحق بنانا چاہئے کہ خدا دوبارہ فلسطین کو ہمارے حوالے کر دے۔ انٹر نیشنل ہاؤس میں ایک وسیع اور صاف ستھری لائبریری ہے اس سے بھی استفادہ کا موقع ملا۔ کراچی کے اخبار ڈان ( ۱۹ جولائی ۱۹۸۳ء) میں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی وزارت کی منسوخی پر طویل نوٹ تھا۔ اس کو پولیٹیکل ڈراما قرار دیتے ہوئے ایڈیٹر نے لکھا تھا: The manner in which Dr Farooq Abdullah's rival, Dr. G.M. Shah, has been inducted into the Chief Ministership in Srinagar does not point to any deep commitment to democratic norms and principles, on the part of the Indian leadership. ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے حریف ڈاکٹر جی ایم شاہ کو جس طرح سرینگر میں وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے اس سے ظاہر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader