سفر مدینہ
Urdu book, p. 176
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں ہوتا کہ ہندوستان کی قیادت جمہوری اصولوں سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔ اس کو پڑھتے ہوئے میرے دل نے کہا ”دوسرے پر تبصرہ کرتے ہوئے ہر آدمی حد درجہ اصول پرست نظر آتا ہے۔ مگر جب خود اپنا معاملہ ہو تو وہ اصول پرستی کے بجائے مفاد پرستی کو اپنا دین بنا لینا ہے ۔ لوگوں کے اندر اتنی غیرت بھی نہیں کہ جس غلطی میں خود مبتلا ہیں اسی غلطی کے معاملہ میں دوسرے کے اوپر تنقید نہ کریں۔ یہاں ہوٹل میں صبح سویرے مقامی اخبار نیو اسٹریٹ ٹائمز (New Straits Times) کمرہ میں پہنچ جاتا تھا۔ ۲۳ جولائی ۱۹۸۴ء کے اخبار میں سنگاپور کے ڈپٹی پر یمیئر مسٹر سناتمبی راجار تمنم (Sinnathamby Rajarathnam) کی ایک تقریر پڑھنے کو ملی۔ انھوں نے سنگاپوری باشندوں کی مادیت پر سخت تنقید کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ سنگاپور کے آدمی نے دولت کو مذہب کا بدل بنا لیا ہے : Money is his substitute for religion یہ بات صرف سنگاپوریوں کے لئے نہیں ہے بلکہ آج دنیا بھر کے انسانوں کا یہی حال ہو رہا ہے۔ دولت ایک ذریعہ ہے مگر اس کو بذات خود مقصد سمجھ لیا گیا ہے۔ اس خبر کو پڑھنے کے بعد ایسا ہوا کہ یہاں کی وزارت مالیات نے ہم سب لوگوں کو ایک عالیجان ہوٹل میں ڈنر دیا۔ یہاں قدرت کا حسین منظر، ساز سامان کی جگمگاہٹ ، زرق برق کاروں کا ہجوم تھا۔ اس قسم کے مناظر کے درمیان بیٹھے ہوئے لوگوں کے چہروں کو دیکھ کر میری سمجھ میں آیا کہ دولت کو مذہب کا قائم مقام بنانے کا سبب کیا ہے۔ وہ ہے موجودہ زمانہ میں دولت کے استعمال کی بڑی ہوئی مدت۔ قدیم زمانہ میں جب جدید تمدنی لوازم نہیں پیدا ہوئے تھے ، انسان کے لئے دولت کا مصرف بہت محدود تھا۔ آج بے شمار نئی نئی چیزوں کے ظہور نے دولت کے استعمال کی حدوں کو لا تماہی طور پر بڑھا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے جس کی بنا پر ہر آدمی دولت کی طرف بھاگا چلا جا رہا ہے۔ لیکن اگر زندگی کی حقیقت کو سوچا جائے تو دولت بالکل بے قیمت نظر آئے گی۔ زندگی کی حقیقت موت ہے۔ اسی اخبار میں کئی موتوں کی خبر تھی ۔ مثلاً تنگو اندر اپترا (Tengku Inder Petra) جو ریاست کلنٹن کے راجہ تھے وہ ۲۳ جولائی ۱۹۸۴ء کو انتقال کر گئے جب کہ ان کی عمر ۷۲ سال تھی ۔ جیسا کہ خبر میں بتایا گیا ہے ، موصوف غیر معمولی صلاحیت کے آدمی تھے ۔ چنانچہ ۱۴ برس میں وہ بزنس میں داخل ہوئے اور کئی بڑی بڑی تجارتوں کے مالک بن گئے۔ وہ فیبرولن گروپ کے وائس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader