Urdu book · سفرنامہ غیر ملکی اسفار

آغاز کلام

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

الرجعي المتخلف المتعفن وهكذا من بد عنوان حکومت پر قبضہ کر لیا ہے۔ آج سے لیبیا الآن تعتبر ليبيا جمهورية حرة آزاد اور با اختیار ہو گا اور اس کا نام ہو گا ۔ ذات سيادة تحت اسم الجمهورية "جمهورية عربية ليبية " العربية الليبية (رئیسی اپنی) اس دنیا میں کامیاب ہونے کے لیے خطرہ مول لینے کی صلاحیت لازمی طور پر ضروری ہے۔ خواہ آپ ڈاکو ہوں یا حق کے مجاہد ۔ مجھے اس سے اتفاق نہیں کہ سابق شاہ اور لیس کے دور کے مقابلہ میں کرنل قذافی کا دور زیادہ آزاد ہے اور بدعنوانیوں سے پاک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لیبیا کا انقلاب دوسرے مسلم ملکوں کے انقلاب کی طرح محض ایک برائی سے دوسری برائی کی طرف چھلانگ تھی۔ اس اعتبار سے لیبیا کے بدنام قذافی اور مصر اور پاکستان کے خوش نام اسلامی مفکرین دونوں عملاً مجھے ایک ہی سطح پر نظر آتے ہیں۔ اس سمینار کا سب سے زیادہ مؤثر حصہ اس کا خاتمہ تھا۔ دونوں طرف کے نمائندوں نے نہایت مخلصانہ جذبات کا اظہار کیا۔ مسلم نمائندہ نے کہا : اذا مشیتم الینا میلا مشینا الیکم ميلين، واذا اتیتم الینا مصافحین هرولنا اليكم معانقين ۔ مسلم نمائندہ نے رواداری کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا : نحن بما عندنا وانتم بما عندکم ولکّل رای ۔ مسیحی نمائندوں کا رویہ بھی نہایت دوستانہ تھا۔ ایک مسلم نمائندہ نے اپنی تقریر میں بتایا کہ وہ فلاں مسیحی نمائندہ سے ملا تو گفتگو کے دوران اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ اس کے بعد مسلم نمائندہ نے یہ آیت پڑھی : ولتجدنّ اقربهم مودة للذين آمنوا .... ( مائدہ ۸۳ - ۸۴) تاہم یہ منظر بھی دیکھنے میں آیا کہ تقریروں کے ساتھ تالیوں کی دھوم تھی ۔ مگر جب ایک مسلم نمائندہ نے کہا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ عیسیٰ کلمتہ اللہ تمام انسانوں کی طرف حق خدا کے پیغمبر تھے ۔ اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں کی طرف خدا کے پیغمبر ہیں ! تو مسلمانوں نے دیرینک تالی بجائی مگر مسیحی نشستوں پر خاموشی طاری رہی ۔ ۶ فروری کی شام کو سمینار کا خاتمہ انجیل اور قرآن کی تلاوت پر ہوا۔ دونوں تلاوتیں ایک عیسائی عالم نے کیں۔ پہلے اس نے انجیل (متی باب ۵ ) عربی میں پڑھی۔ پڑھنے والا پادری نہایت خوش الحان تھا ۔ اور خالص عربی لہجہ میں پڑھ رہا تھا ۔ اس کے بعد اسی پادری نے قرآن (بقرہ، آخری آیات اور سورہ علق کی کچھ آیات ) پڑھیں ۔ دونوں تلاوتیں اس نے تجوید اور قرائت کے تمام قواعد کے ساتھ کیں۔ قرآن کو بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ شروع کیا اور آخر میں صدق اللہ العظیم کہا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page