آغاز کلام
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل انجیل بلاشبہ ایک خدائی کتاب تھی ۔ مگر اس کا موجودہ عربی ترجمہ ظاہر ہے کہ انسان کے قلم سے ہے ۔ اس کے برعکس قرآن کی زبان الہامی زبان ہے ۔ جب دونوں کتابوں کے حصے ایک ساتھ پڑھے گئے تو یہ گویا خاموش اعلان تھا کہ یہ انسانی کلام ہے اور وہ خدائی کلام ۔ انجیل کی قرآت میں ساری کوشش کے باوجود کوئی شکوہ پیدا نہ ہو سکا۔ اس کے برعکس قرآن حیرت انگیز طور پر ایک عظیم کلام کی مانند ہال کے اندر گونج رہا تھا۔ اس کی مجرد سماعت ہی یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ یہ ایک بلند تر خدائی کلام ہے نہ کہ کوئی انسانی کلام ۔ کانفرنس کی کارروائی ختم ہونے کے بعد تمام لوگ ایک بڑے ہال میں چائے پینے کے لیے جمع ہوئے ۔ میں جس میز پر بیٹھا اس کے دوسری جانب اتفاقاً ایک نوجوان پادری تھے جو ویٹیلیکن کے وفد کے ساتھ آئے تھے ۔ کانفرنس کے آخری پروگرام کا اثر ابھی ہم سب کے ذہنوں پر تھا جب کہ انجیل کی آواز پر قرآن کی آواز اس طرح چھا گئی جیسے قرآن نے اس کو نگل لیا ہو۔ اسی پس منظر میں ہم دونوں کی گفتگو شروع ہوئی ۔ میں نے پادری صاحب سے کہا : کیا آپ قرآن کو خدائی کتاب مانتے ہیں ۔ یہ پادری اگر چہ وہ بزرگ تھے جو ابھی کانفرنس کے ہال میں اس کی تردید کر چکے تھے ۔ قرآت کے تاثر کے تحت ان کی زبان سے نکلا ہاں ۔ مگر معاً بعد انھیں محسوس ہوا کہ میں نے اپنے عقیدہ کے خلاف ایک بات کہہ دی ۔ چنانچہ اگلے لمحہ انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا : مگر وہ صرف قدیم عربوں کے لیے تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader